بدھ کے روز محکمۂ انصاف نے کہا کہ امریکی حکام نے چار چینی شہریوں پر امریکی ساختہ الیکٹرانک پرزوں کی ایران اسمگلنگ کے جرم میں فرد جرم عائد کی ہے جن میں کچھ ممکنہ فوجی استعمال کے آلات بھی شامل ہیں۔
محکمہ نے ایک بیان میں کہا کہ چینی شہریوں پر الزام ہے کہ انہوں نے امریکہ کی ممکنہ پابندی والی برآمدی اشیاء کو چین اور ہانگ کانگ کے راستے ایران کے اسلامی انقلابی سپاہ (آئی آر جی سی) اور اس کی وزارتِ دفاع سے منسلک منظور شدہ اداروں کو منتقل کیا۔
امریکہ کا الزام ہے کہ مئی 2007 اور جولائی 2020 کے درمیان چاروں نے فرنٹ کمپنیوں کو چین میں الیکٹرانکس کا سامان بھیجنے کے لیے استعمال کیا۔ ان الیکٹرونکس میں سے کچھ ڈرونز، بیلسٹک میزائل سسٹمز اور دیگر فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
محکمۂ انصاف نے کہا کہ مبینہ اسکیم کے نتیجے میں فوجی صلاحیتوں کے ساتھ دوہرے استعمال والی امریکی نژاد اشیاء کی "بڑی مقدار" امریکہ سے ایران برآمد ہوئی۔
محکمۂ انصاف کے قومی سلامتی ڈویژن کے نائب اٹارنی جنرل میتھیو اولسن نے ایک بیان میں کہا، "غیر قانونی طور پر امریکی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی ایسی کوششوں سے ہماری قومی سلامتی کو براہِ راست خطرہ لاحق ہے اور ہم ایرانی حکومت کی مذموم سرگرمیوں کو ہوا دینے والی غیر قانونی سپلائی چین کو توڑنے کے لیے اپنے اختیار کا ہر ممکن استعمال کریں گے۔"
بیان کے مطابق امریکہ نے ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں جو تمام مفرور ہیں۔