امریکہ ہمارے حملے روکنے میں ناکام، وہ ہمارے خلاف چین کا سہارا لے رہا ہے:حوثی گروپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

گذشتہ اکتوبر سے غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں بحیرہ احمر اور خطے میں عام طور پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں یمنی حوثی گروپ نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کی طرف جانے والے جہازوں کو نشانہ بنانا جاری رکھیں گے۔

حوثیوں کے رہ نما عبدالمالک الحوثی نے جمعرات کو ایک تقریر میں کہا کہ "اسرائیل جانے والے کسی بھی بحری جہاز کو نشانہ بنانے کے لیے گروپ کی تیاری بہت زیادہ ہے"۔انہوں نے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ خود کو ایک مخمصے میں ڈال چکے ہیں۔

بیجنگ سے معاونت

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بحیرہ احمرکے مشن میں امریکی اور برطانوی ناکامی کی ایک علامت واشنگٹن کی جانب سے چین سے ثالثی کی درخواست کرنے کی کوشش تھی۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کو ان کے گروپ کو اپنی کارروائیاں روکنے کے لیے چین سے مدد لینا پڑی تھی۔

حوثی ملیشیا کے ارکان حسن نصراللہ اور عبدالملک الحوثی کی تصاویر اٹھائے ہوئے ہیں
حوثی ملیشیا کے ارکان حسن نصراللہ اور عبدالملک الحوثی کی تصاویر اٹھائے ہوئے ہیں

کچھ امریکی حکام نے پچھلے ہفتے اطلاع دی تھی کہ واشنگٹن نے بیجنگ سے کہا ہے کہ وہ تہران پر حوثیوں کے حملے روکنے کے لیے دباؤ ڈالے۔

الحوثی گروپ نے کہا کہ "اسرائیل کے لیے اقوام متحدہ کا رکن ہونا شرمناک ہے۔ یہ سچائی اور انصاف کے منافی ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ مغربی عوام میں کچھ آزادانہ آوازیں ابھرنے لگیں جو غزہ کے عوام کو درپیش مسائل کے حوالے سے مغربی پالیسی کو مسترد کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں