برطانیہ کے قانون ساز نے حفاظتی خطرات کے پیش نظر لندن کے یہودی علاقے میں نشست چھوڑ دی

غیر یہودی فریر نے ایک خط میں "میری ذاتی حفاظت کے لیے کئی سنگین خطرات" کا حوالہ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانوی قانون ساز مائیک فریر جو لندن میں یہودیوں کی بڑی آبادی والے علاقے کی نمائندگی کرتے ہیں، نے کہا کہ وہ اپنے دفتر پر آتش زنی سمیت متعدد دھمکیاں ملنے کے بعد اگلے انتخابات میں اپنی پارلیمانی نشست چھوڑ رہے ہیں۔

غیر یہودی فریر 2010 سے فنچلے اور گولڈرز گرین حلقے کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایک خط میں "میری ذاتی حفاظت کے لیے کئی سنگین خطرات" کا حوالہ دیتے ہوئے اس سال کے آخر میں دوبارہ الیکشن نہ لڑنے کے فیصلے کی وضاحت کی۔

2021 میں قانون ساز ڈیوڈ امیس کے قتل میں ملوث ایک شخص نے کہا تھا کہ اس نے قانون ساز کی طرف سے شام پر ہوائی حملوں کی حمایت کا بدلہ لیا تھا۔ اُس نے حملے سے قبل فریر کے دفتر میں بھی جاسوسی کی تھی۔

ڈیلی میل کے ساتھ ایک الگ انٹرویو میں فریر نے کہا: "ایک موقع ایسا آتا ہے جب آپ کی ذاتی حفاظت کو لاحق خطرات ہمارے شریکِ حیات اور ہمارے خاندان کے لیے انتہائی زیادہ ہو جاتے ہیں۔"

7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں حماس کے حملے میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے تھے اور وہ غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملے کی وجہ بنا۔ اس کے بعد سے برطانیہ میں سام دشمنی کی اطلاعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

حکمران کنزرویٹو پارٹی کے رکن فریر نے سام دشمنی کے خلاف مہم چلائی ہے اور پہلے خود کو اسرائیل کا حامی بتایا ہے۔

اس سوال پر کہ کیا وہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں موصول ہونے والی کچھ دھمکیوں اور بدسلوکی کا محرک سام دشمنی ہے، فریر نے ڈیلی میل کو بتایا، بعض صورتوں میں اس سے صرفِ نظر کرنا مشکل ہے۔

انہوں نے کہا، "آیا کہ لوگ اس لیے دھمکی دیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ میں یہودی ہوں یا شرقِ اوسط کے بارے میں میرے خیالات کی وجہ سے، واقعی کون یہ بات جانتا ہے؟ لیکن یہ واضح ہے کہ میرا حلقہ سام دشمنی کی انتہا پر ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں