فش فارم،گایوں کا ریوڑ، آبشار،روسی صدر کے خفیہ لگژری محل میں اور کیا کچھ ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

روسی صدر ولادی میر پوتین پرتعیش طرز زندگی کی وجہ سے ہمیشہ میڈٰیا کی توجہ کا مرکز رہتے ہیں۔ اندرون اور بیرون ملک ان کی کئی قیمتی جائیدادیں سامنے آ چکی ہیں۔

پوتین کا ایک نیا اور لگژری محل سامنے آیا جو فن لینڈ کی سرحد کے قریب وسیع وعریض رقبے پرقائم ہے۔ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پُرتعیش محل روسی صدر ولادیمیر پوتین کا ہے۔ اس کا انکشاف ایک روسی تحقیقاتی تنظیم ڈوزیئر سینٹر نے کیا ہے جو کریملن سے منسلک بہت سے لوگوں کا سراغ لگاتی ہے۔

لیک ہونے والی تفصیلات اور محل کی فضائی فوٹیج سے پتا چلتا ہے کہ یہ محل لاڈوگا جھیل پر مگالاہٹی بے کے ساحل پر واقع ہے۔ یہ محل خاردار تاروں کی باڑ، انٹیلی جنس افسران اور ڈرون جیمنگ ڈیوائسز کے ذریعے چوبیس گھنٹے محفوظ ہے۔

برطانوی اخبار ’’دی ٹیلی گراف‘‘ کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق خفیہ کمپلیکس شمالی علاقے کیریلیا کے جنگلات میں گہرائی میں واقع ہے۔

اس میں دی بارن، دی فشرمین ہٹ، اور دی گارڈن ہاؤس کے نام سے مشہور تین جائیدادیں شامل ہیں۔

ایک نقشہ جس میں مبینہ محل کا مقام دکھایا گیا ہے
ایک نقشہ جس میں مبینہ محل کا مقام دکھایا گیا ہے

مہنگے باتھ ٹب

اس سے قبل افشا ہونے والی تفصیلات سے پتہ چلتا ہے کہ تین لگژری پراپرٹیز کو مہنگی چیزوں سے سجایا گیا ہے۔ 3500 پاؤنڈ کی لاگت کے ایک ہی نل کے ساتھ باتھ ٹب اور 85,000 پاؤنڈ مالیت کے اطالوی Fior di Bosco ماربل سے بنے فرش سے ان کی قیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

رہائشیوں کے مطابق خیال کیا جاتا ہے کہ پوتین سال میں کم از کم ایک بار اس محل کا سفر کرتے اور وہاں قیام کرتے ہیں۔ ان کے دوروں کے دوران مقامی سکیورٹی کی جگہ ’ایف ایس او‘ کے اہلکار تعینات کیے جاتےہیں اور داخلی راستے اور پڑوسی جزیروں کو بند کر دیا جاتا ہے۔

سالمن فارم اور گایوں کا ریوڑ

جبکہ تین گھروں میں دو ہیلی پیڈ، کئی گھاٹ، ایک ٹراؤٹ فارم اور گایوں کا ایک ریوڑ شامل ہے۔

اس زمین میں تقریباً تین لاکھ آسٹریلوی پاؤنڈ مالیت کے آسٹریا کے شراب بنانے کے سازوسامان سے لیس ایک فیکٹری بھی شامل ہے جو روزانہ مالٹ مشروب تیار کرتی ہے۔ دوسری منزل پر ایک کیفے ہے جس کے سامنے لاڈوگا جھیل دکھائی دیتی ہے۔

رپورٹ کے ساتھ شائع ہونے والی ڈرون فوٹیج میں ایک آبشار دکھائی گئی ہے جو مبینہ طور پر لاڈوگا سکیریز نیشنل پارک سے چوری کیا گیا تھا۔

یہ واضح نہیں ہے کہ تنظیم کے صحافی اس فول پروف سکیورٹی والی پراپرٹی تک پہنچنے میں کیسے کامیاب ہوئے کیونکہ یہاں تک عام طور پر صرف کشتی یا ہوائی جہاز کے ذریعے ہی رسائی ممکن ہے۔

ایک بڑا اونچا پل ہے جسے مرکزی جائیداد کے عقب میں فضائی دفاعی نظام رکھنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یوری کوولچک

’ڈوزیئرسینٹر‘نے دعویٰ کیا ہے کہ کاریلیا کی ملکیت کی مالی اعانت روسی صدر کے ساتھیوں اور کریملن کے دوست اولیگارشیا سے منسلک کمپنیوں کے ذریعے کی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جائیداد کے مالک بینک آف روس کے سربراہ یوری کوولچک کے نام سے درج ہیں، جنہیں امریکی محکمہ خزانہ پوتین کا "ذاتی بینکار" قرار دیتا ہے۔

اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک ایسا نیٹ ورک چلاتے ہیں جو "صدر کی تفریحی سرگرمیوں اور ان کی تمام جائیدادوں کی دیکھ بھال کرتا ہے"۔

قابل ذکر ہے کہ روسی صدر کے اپنے نام پر ظاہر کیے گئے اثاثے بہت کم ہیں۔ اس میں سینٹ پیٹرزبرگ میں ایک چھوٹا سا اپارٹمنٹ 1950ء کی دہائی کی دو سوویت دور کی کاریں، ایک ٹریلر اور ایک چھوٹا گیراج شامل ہے۔

ڈوزیئر سینٹر کی رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد پوتین کی صدارتی مہم کے سربراہ نے منگل کو کہا کہ روسی رہ نما کی بچت کا زیادہ تر حصہ ان کی سالانہ تنخواہ پر مشتمل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں