یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کےعہدیدار جوزف بوریل نے کہا ہے کہ بحیرہ احمر میں موجودہ خطرات تجارتی مفادات سےآگے بڑھ گئے ہیں اور ان سے علاقائی استحکام اور امن بھی متاثر ہو رہا ہے۔
انہوں نے جمعہ کو یورپی یونین اور انڈو پیسیفک فورم کے افتتاحی اجلاس کے دوران مزید کہا کہ بحیرہ احمر کی صورتحال کی وجہ سے ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارتی بحری جہازوں کا سفر 10,000 میل تک بڑھ چکا ہے۔
العربیہ/الحدث کے نامہ نگارکی رپورٹ کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ یورپی بحری بیڑے کی تیاری اور اسے 19 فروری کو لانچ کرنے میں پیش رفت ہوئی ہے۔
خلیج عدن میں ڈرون مار گرایا گیا
جمعرات کی شام امریکی سینٹرل کمانڈ نے خلیج عدن پر ایک ڈرون مار گرانے اور بحیرہ احمر میں حوثی مسلح کشتی کو تباہ کرنے کا اعلان کیا۔
اسی دوران حوثیوں نے بحیرہ احمر میں ایک برطانوی تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا اعلان کیاجو ان کے بہ قول اسرائیلی بندرگاہوں کی طرف جا رہا تھا۔
حوثی فوج کے ترجمان یحیی ساری نے ایک بیان میں کہا کہ جہاز کو "مناسب بحری میزائلوں" سے نشانہ بنایا گیا۔
سمندری مال برداری کی حفاظت
قابل ذکر ہے کہ غزہ میں اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے ایک ماہ سے زائد عرصے کے بعد گذشتہ نومبرسے حوثیوں نے ایران کے ساتھ مل کربحیرہ احمر میں کارگو بحری جہازوں پر دھماکہ خیز ڈرونز اور میزائلوں سے درجنوں حملے کیے ہیں۔
ان حملوں کی وجہ سے بین الاقوامی جہاز رانی میں خلل پڑا ہے اور ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت میں کمی آئی۔ اس کے علاوہ سپلائی میں رکاوٹوں کا خدشہ پیدا ہوا۔
ان واقعات نے غزہ میں سات اکتوبرسے حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کا دائرہ وسیع ہونے کے خدشات پیدا کردیے ہیں۔
سمندر میں جہازوں کو نشانہ بنانے کی وجہ سے امریکا اور برطانیہ نے یمن کے حوثیوں کے ٹھکانوں پر کئی حملے کیے ہیں اور امریکا نے حوثیوں کو ایک بار پھر دہشت گرد گروپوں کی فہرست میں شامل کرلیا ہے۔