کینیڈا بھی انتہا پسند یہودی آباد کاروں میں سے چار پر پابندی لگانے پر تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کینیڈا کی طرف سے عندیہ دیا گیا ہے کہ امریکہ کے بعد کینیڈا بھی مقبوضہ مغربی کنارے میں انتہا پسند یہودی آبادکاروں پر پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔ کینیڈا کی طرف سے یہ بات جمعہ کے روز سامنے آئی ہے۔

واضح رہے امریکہ نے جمعرات کے روز مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی پرتشدد کارروائیوں کے باعث چار عدد یہودی آباد کاروں کے خلاف پابندیاں عاید کی ہیں۔ مغربی کنارے میں ناجائز یہودی بستیوں میں دوسرے ملکوں سے یہودیوں کو لا کر آباد کیا گیا ہے۔

یہودی آباد کار معمول کے دنوں میں بھی مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔ جبکہ سات اکتوبر سے غزہ کے ساتھ ساتھ مغربی کنارے میں فلسطینی عوام زیادہ نشانہ بنائے جا رہے ہیں۔ سات اکتوبر سے اب تک تین سو سے زیادہ فلسطینی مغربی کنارے میں بھی ہلاک کیے جا چکے ہیں۔

اس وجہ سے تقریباً درجن بھر اسرائیلی اتحادی مغربی ملکوں نے بھی اسرائیل کو بار بار متوجہ کیا ہے کہ مغربی کنارے میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات نہ صرف پورے خطے کے لیے بلکہ اسرائیل کے بھی سخت خطرناک ہوں گے۔ ان ملکوں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا اور متعدد یورپی ممالک شامل ہیں۔

اس تناظر میں کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا 'ہم اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں کہ یہ کس طرح یقینی بنایا جائے کہ جو مغربی کنارے میں تشدد کے ذمہ دار ہیں انہیں کس طرح احتساب کی زد میں لایا جائے۔'

اسرائیل نے دریائے اردن کے مغربی کنارے کو اسرائیل نے 1967میں قبضے میں لیا تھا۔ فلسطینی عوام اس مغربی کنارے کو اپنی آزاد ریاست کا اہم ترین حصہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ جبکہ اسرائیل نے مغربی کنارے میں ناجائز یہودی بستیاں قائم کر رکھی ہیں۔

جسٹن ٹروڈو نے مزید کہا 'مغربی کنارے میں تشدد کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ کہ اس تشدد کی وجہ سے پورے خطے کا امن خطرے سے دوچار ہو گا، اس صورت حال سے نکلنے کا راستہ ایک ہی ہے کہ مسئلے کا دو ریاستی حل سامنے لایا جائے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں