فلسطین اسرائیل تنازع

امریکی ہاؤس پینل کی اسرائیل کے لیے 17.6 بلین ڈالر کی فوجی فنڈنگ کی سفارش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

حماس کے خلاف جنگ کے لیے اسرائیل کو 17.6 بلین ڈالر کی نئی فوجی امداد فراہم کرنے کی قانون سازی ہفتے کے روز امریکی ایوانِ نمائندگان میں پیش کی گئی۔

سپیکر مائیک جانسن نے اراکین کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ ہاؤس اپروپری ایشنز پینل کی طرف سے پیش کردہ فنڈنگ بل اگلے ہفتے کسی وقت پورے ایوان کیووٹنگ کے لیے پیش ہو سکتا ہے۔

ریپبلکن کنٹرول والے ایوان نے اس سے قبل اسرائیل کے لیے 14.3 بلین ڈالر کی نئی فوجی امداد کی منظوری دی تھی لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اس کی ادائیگی امریکی داخلی محصول سروس کے لیے پہلے سے ہی ہدف کردہ رقم کا ایک حصہ واپس لے کر کی جائے۔

ڈیموکریٹک کنٹرول والی سینیٹ نے اس شق کو مسترد کر دیا اور توقع ہے کہ وہ ایک قانون ساز پیکیج کی نقاب کشائی کرے گی جو اسرائیل کی مدد کے ساتھ ساتھ روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کو مزید فوجی مدد فراہم کرے گا۔

سینیٹ کے اسی بل میں میکسیکو کے ساتھ جنوبی امریکی سرحد پر سیکورٹی کو مضبوط بنانے کی تجاویز بھی شامل ہونے کی توقع ہے۔

سینیٹ کے اکثریتی رہنما چک شومر نے اگلے ہفتے اس کثیر الجہتی بل پر بحث شروع کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں جس کے لیے پہلے پروسیجرل ووٹ بدھ کے دن سے آگے نہ جائے۔

ہاؤس اپروپری ایشن کمیٹی کے مطابق 17.6 بلین ڈالر میں اسرائیل کے میزائل دفاعی نظام کو دوبارہ بھرنے، اضافی جدید ہتھیاروں کے نظام کا حصول اور توپ خانے و دیگر جنگی سازوسامان کی تیاری میں مدد کے لیے فنڈز شامل ہوں گے۔

7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد اسرائیل کو فراہم کردہ امریکی ہتھیاروں کو دوبارہ بھرنے کے لیے بھی کچھ فنڈنگ استعمال کی جائے گی۔

جانسن نے اپنے ساتھیوں کو لکھے گئے خط میں کہا، "خطے میں اپنے قریبی ترین اتحادی اور اپنی افواج کی حمایت کرنے کی ضرورت اس سے زیادہ دباؤ میں کبھی نہیں رہی۔"

یہ واضح نہیں تھا کہ آیا ایوان کے انتہائی دائیں بازو کے اراکین بجٹ میں کسی اور جگہ پر مساوی رقم کی بچت کے بغیر اسرائیل کے لیے فنڈنگ کی مخالفت کر سکتے ہیں۔

ہاؤس ریپبلکنز نے اصرار کیا ہے کہ یوکرین کے لیے کسی بھی نئی امداد کے ساتھ ایسے وقت میں مضبوط امریکی سرحدی کنٹرول نافذ کیا جائے جب ریکارڈ تعداد میں تارکینِ وطن امریکہ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جبکہ سینیٹ ایسا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے لیکن جانسن پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ سینیٹ میں جو بارڈر سیکیورٹی پیکج پیش ہونا ہے، وہ ناکافی ہے۔

اس سے پہلے کہ اسرائیل یا یوکرین کو نئی فوجی امداد فراہم کی جائے، ایوان اور سینیٹ کو ایک ہی بل منظور کرنا ہو گا تب ہی قانون بنانے کی غرض سے دستخط کرنے کے لیے یہ بل ڈیموکریٹ صدر جو بائیڈن کو بھیجا جا سکے گا۔

سینیٹ تائیوان کو دی جانے والی امداد کو بھی اپنی قانون سازی کے حصے کے طور پر شامل کرنا چاہتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں