مشرق وسطیٰ: ایرانی حمایت یافتہ عسکری گروپوں پر امریکہ مزید حملے کرے گا : جیک سلیوان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکہ کی طرف سے خبردار کیا گیا ہے کہ ایرانی حمایت یافتہ عسکری گروپوں کے خلاف ابھی اور حملے کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ یہ بات امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے اتوار کے روز کہی ہے۔ اس سے پہلے امریکہ اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے رد عمل میں دو بار ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کے ٹھکانوں پر حملے کر چکا ہے۔

دوسرا حملہ امریکہ اور برطانیہ نے مل کر ہفتے کی رات ایران نواز عسکری گروپوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا ہے۔ اس سے قبل امریکہ اور برطانیہ مل کر یمن میں بھی اسی نوعیت کے حملے حوثیوں کے مراکز پر کر چکے ہیں۔ یمن پر امریکہ و برطانیہ کے حملے 11 جنوری کو اس وقت کیے گئے تھے جب امریکی وزیر خارجہ ایک ہفتے پر محیط دورہ مشرق وسطیٰ مکمل کرکے واپس امریکی سفر پر تھے۔

تاہم اب کی بار ان کا مشرق وسطیٰ کا پانچواں دورہ شروع ہونے سے بھی پہلے امریکہ اور برطانیہ کی حملہ آور اتحاد سامنے آیا ہے۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ امریکہ کے مزید حملے انٹونی بلنکن کی مشرق وسطیٰ میں موجودگی کے دوران بھی جاری رکھے جائیں گے یا ان کی امریکہ واپسی کے بعد مزید حملوں کا مرحلہ شروع کیا جاتا ہے۔

قومی سلامتی کے امریکی مشیر جیک سلیوان نے کہا 'این بی سی ' کے پروگرام ' میٹ دی پریس ' میں کہا' ہم ابھی مزید حملے کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ہم یہ اس لیے جاری رکھنا چاہتے ہیں کہ ہم ایک واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ جب بھی ہماری افواج کو نشانہ بنایا جائے گا ہم جواب دیں گے۔'

عراق اور شام میں ایران کے حامی عسکری گروپوں پر امریکی حملے سات اکتو بر سے غزہ میں جاری جنگ کے کے بعد امریکہ کے جنگی ریسپانس کی اب تک کی آخری قسط تھی۔ ایرانی حمایت یافتہ عسکری گروپ پہلے ہی سات اکتوبر کے بعد متحرک ہو چکے ہیں۔ تاکہ غزہ سے اسرائیلی توجہ ہٹا سکیں۔

بحیرہ احمر کے علاوہ عراق و شام میں امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے کے لیے درجنوں حملے کیے گئے ہیں۔ تاہم ایران نے ابھی تک اسرائیل یا امریکہ کے ساتھ براہ راست تصادم سے گریز کیا ہے اور یہی موقف پیش کیا ہے کہ ایران کسی پر حملہ نہیں کرے گا، لیکن کسی بھی طرف سے حملوں کا جواب ضرور دے گا۔

امریکی سلامتی کے مشیر نے اس بارے میں سوال کو نظرانداز کر دیا کہ آیا امریکہ ایران کے اندر خود حملے کرے گا۔ ان کا کہنا تھا امریکی فوج اس بارے میں بہت محتاط انداز سے چیزوں کو دیکھتی ہے۔

اس سے قبل 'سی بی ایس' کے پروگرام سے بات کرتے ہوئے امریکی سلامتی کے مشیر نے کہا 'جمعہ کے روز ہونے والی ہڑتالیں ہمارے رد عمل کا آغاز تھا، اختتام نہیں۔ مزید اقدامات بھی ہوں گے۔ جن میں سے کچھ دیکھے جا سکے اور کچھ نظر نہیں آسکے۔'

خیال رہے پینٹاگون کے مطابق ہفتہ کے روز یمن میں 13 مقامات پر حوثیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے دوران راکٹ لانچرز اور میزائل سسٹمز کو تباہ کیا گیا۔

دوسری جانب حوثی فوج کے ترجمان یحیٰ ساریہ کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے حملے جوابی حملے اور نتائج کی پرواہ کیے بغیر کیے گئے تھے۔ ان حملوں میں اب بھی کمی نہیں آئے گی کیونکہ غزہ کے فلسطینیوں کی حمایت کا فیصلہ غیرمتزلزل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں