بھارت :کسان پھر سے احتجاج کے لیے سڑکوں پر، فصلوں کی اچھی قیمتیں مقرر کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بھارت میں کسانوں نے ایک مرتبہ پھر پورے ملک کے طول و عرض میں احتجاج شروع کر کے سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ کسانوں کی اس نئی احتجاجی تحریک کا آغاز تین سال کے وقفے کے بعد ہوا ہے۔ کسانوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت فصلوں کی قیمتوں کا کم از کم تعین کرے تاکہ مارکیٹ میں انہیں سوداگروں کے استحصال سے نجات مل سکے۔

کسانوں کی تنظیمیں توقع کرتی ہیں کہ منگل کے روز سے یہ احتجاج ملک کی تمام ریاستوں سے شروع ہو جائے گا۔ اور حکومت پر اپنے مطالبے کے حق میں دباؤ بڑھا سکیں گے۔ اس مقصد کے لیے ملک کی شاہراہوں اور چوراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں۔

دوسری جانب حکومت کے اعلیٰ عہدے داروں کا خیال ہے ہے کہ پیر کی شام تک کسانوں کا مسئلہ حل ہو جائے گا اور احتجاج کی اپیل واپس لے لیں گے۔ حکومت نے کسانوں کا احتجاج روکنے کے لیے مخصوص مقامات اور سرحدی علاقوں میں پابندیاں لگا دی ہیں۔ کئی مقامات پر حکومت نے رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔

علاوہ ازیں بھارتی حکومت نے عام شہریوں کو متبادل راستوں کی طرف متوجہ کیا ہے تاکہ ٹریفک رواں دواں رہ سکے ۔ حکومت نے کئی علاقوں میں انٹرنیٹ کی سروس بھی بند کر دی ہے۔

تین سال کسانوں کے ملک گیر احتجاج نے غیر معمولی طوالت اختیار کر لیا تھی اور ایک سال تک احتجاج چلتا رہا تھا۔ بعد ازاں حکومت نے کسانوں کے سامنے سرنڈر کر دیا اور ان کے مطالبات مان لیے۔ اب کی بار کسانوں کو مطالبہ فصلوں کی اچھی قیمت دینے کے لیے ہے۔

مودی حکومت کا اس سے پہلے جواب یہ تھا کہ یہ ممکن نہیں ہے اور حکومت کو اس فیصلے سے باہر کی دنیا میں مشکلات ہوں گی۔ لیکلن کسانوں کا مطالبہ اب انہیں ایسے وقت پر باہر لایا ہے جب ملک میں عام انتخابات قریب آ رہے ہیں۔ اگر حکومت نے کسانوں کا مطالبہ نہ مانا تو مودی سرکار کو ملک کے اندر مشکلات اور انتخابات میں نقسان ہو سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں