اہم یورپی ملک ناروے کے وزیر اعظم نے جیسا کہ ایک روز قبل کہا تھا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے لیے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی رقوم جنہیں اسرائیل نے اکتوبر سے ضبط کرنے کا اعلان کر رکھا ہے ، بلا تعطل فراہمی آسان بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس سلسلے میں فیصلے کے قریب ہیں۔
اب اتوار کے روز اوسلو کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کو بچانے کے لیے یہ محصولارت سے حاصل ہونے والی رقم پی اے کو منتقل کی جائے گی۔ اتھارٹی یہ رقم نہ صرف سکولوں اور صحت کے شعبے کے ملازمین کی تنخواہوں کے لیے ادا کر سکے گی بلکہ مالی طور پر دیوالیہ ہونے سے بھی بچ سکے گی۔
ناروے کے وزیر اعظم جوناس گاہر نے کہا ہے کہ یہ فلسطینی اتھارٹی کے جائز وجود کو برقرار رکھنے کے بھی ضروری ہے اور خطے میں استحکام کے لیے بھی اہم ہے۔
اس فیصلے کے نتیجے میں ناروے سات اکتوبر کے بعد سے اسرائیلی کی طرف سے روکی گئی رقومات اتھارٹی کو منتقل کرنے میں ثالث کے طور پر کام کرے گا۔ ناروے کے ترجمان کے مطابق بعد فلسطینی اتھارٹی دیگر فنڈز کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے،
ناروے کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ناروے کی آمدنی کا حصہ غزہ کے لیے اسرائیل کے تخمینہ کے برابر رکھے گا۔