امریکہ کا عالمی عدالت انصاف پر فلسطین سے اسرائیل کے انخلا کا حکم نہ دینے پر اصرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ نے عالمی عدالت انصاف میں یہ دلیل دی ہے کہ اسرائیل کو فلسطین کے مقبوضہ علاقوں سے نکالنے کا مطالبہ کرنے کے لیے اسرائیل کی سکیورٹی کے حقیقی تحفظات کو پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

امریکی دفتر خارجہ کے قائم مقام لیگل کونسل رچرڈ ویسک نے بدھ کو کہا کہ ’امریکہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے کام کر رہا ہے۔‘

ہیگ میں عالمی عدالت انصاف میں سماعت کے تیسرے روز مصر، متحدہ عرب امارات اور کیوبا نے بات کی۔

مصر کی قانونی قونصلر جیسمین موسی نے کہا کہ ’اسرائیل کے غزہ پر جاری بدترین حملے میں 29 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک اور 23 لاکھ سے زیادہ بے گھر ہوئے ہیں جو عالمی قانون کی خلاف ورزی ہے۔‘

متحدہ عرب امارات نے اپنے بیان میں غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو امن کی قرارداد کو منظور کرنے میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے۔

’متحدہ عرب امارات پرامید ہے کہ عدالت اسرائیل کی جانب سے غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے ساتھ عالمی قانون کی خلاف ورزی کے قانونی نتائج کا تعین کرے گی۔‘

اقوام متحدہ کی اس اعلٰی ترین عدالت میں روس نے فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے قانونی پہلوؤں پر دلائل دیے۔

خیال رہے کہ 26 فروری تک 50 ریاستیں اپنے دلائل پیش کریں گی۔ پیر کے روز فلسطینی نمائندوں نے عالمی عدالت انصاف کے ججوں سے کہا تھا کہ ’وہ ان کے علاقے پر اسرائیلی قبضے کو غیر قانونی قرار دے۔‘

منگل کو جنوبی افریقہ سمیت 10 ریاستوں نے عدالت پر زور دیا کہ وہ اس قبضے کو غیر قانونی قرار دے۔

خیال رہے کہ اسرائیل اس سے قبل 2004 میں بھی عالمی عدالت کی رائے کو نظر انداز کر چکا ہے جب یہ کہا گیا تھا کہ اسرائیل کو مغربی کنارے سے الگ کرنے والی دیوار عالمی قانون کی خلاف ورزی ہے اور اسے منہدم کر دینا چاہیے مگر ایسا نہیں ہوا۔

امید کی جا رہی ہے کہ حالیہ سماعتوں سے غزہ میں جاری جنگ کو روکنے کے لیے اسرائیل پر سیاسی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں