' العربیہ ' کے رض خان نے 2024 میں عالمی سطح پر خطرات کے موضوع پر کیا سنا اور کیا کہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ اور یوکرین، ایتھوپیا اور سوڈان ، چین اور امریکہ ہر جگہ دنیا کے لیے ہنگامہ خیزی کا ایک منظر موجود ہے یا وجود میں آنے کے قریب تر ہے۔ انتخابات ، معیشت ماحولیات کے مقابلے میں جنگیں اور قحط کے علاوہ اور بہت سے دوسرے کئی پیچیدہ ایشوز ہم سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کراتے ہیں۔

رض خان نے ' العربیہ ' کے ناظرین کے لیے انہیں دیکھنے سننے کا اہتمام کیا ہے کہ آپ ان ماہرین کے اندازوں ، تخمینوں اور تجزیوں کو دیکھیں اور ان کے تجزیوں کی بنیاد پر پیش گوئیوں کو سنیں۔ رض خان نے اس مقصد کے لیے تین ایسے ماہرین اور دانشوروں کا انتخاب کیا ہے جوعالمی براداری کو درپیش مسائل اور چلینجوں پر پڑھتے ہیں، لکھتے ہیں،غور کرتے ہیں اور ان کے بارے میں بولتے ہیں۔

اس ' ایپی سوڈ ' میں رض خان نے تین ایسی شخصیات کا انتخاب کیا ہے، جن میں سے ایک اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے چیف ترجمان سٹیفن ڈوجارک ہیں ۔ انہوں نے تین سیکرٹری جنرلز کی خدمات انجام دی ہیں ۔ کوفی عنان، بان کی مون اور موجودہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس شامل ہیں۔

وہ اقوام متحدہ کے کام ، اس کے اہداف اور چیلنجوں کے بارے میں جانتے ہیں بات کرتے ہیں۔ ان موضوعات پر بات کے لیے بہت کم لوگ ہیں۔ خان ان سے تبادلہ خیال کرتے ہیں کہ اقوام متحدہ کس طرح عالمی بحرانوں کی اپنی چیک لسٹ کو ترتیب دیتا ہے۔

ایان بریمر۔۔ سیاسی رسک کنسلٹنٹ ہیں ۔ ایان بریمر دنیا کو زیادہ تر لوگوں سے مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔عالمی رہنما، سی ای اوز اور پالیسی ساز اپنے سوالات کے ساتھ ان سے رجوع کرتے ہیں اور ان کے جوابات کی بنیاد پر بنیادی فیصلے کرتے ہیں

جان بولٹن ۔۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کے سابق سفیر ہیں۔ یہ تین امریکی صدور کی ٹیم میں رہ چکے ہیں۔ انہوں نے رونالڈ ریگن اور جارج ڈبلیو بش کے تحت کام کیا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر کے طور پر خدمات انجام دی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں