مصری حکام نے ایک آثار قدیمہ کے خزانے کے بارے میں نئی تفصیلات کا انکشاف کیا ہے جو اس وقت ملک کے شمال میں واقع شہر بنہا میں تعمیر کیے جانے والے ہسپتال کے نیچے پایا گیا ہے۔
وزارت سیاحت اور نوادرات نے اس خزانے کو منتقل کرنا شروع کیا جو ایک پتھر کا سرکوفگس ہے۔ قلیوبیہ گورنری کے بنہا یونیورسٹی سپیشلائزڈ ہسپتال کی تعمیر کے لیے مختص کی گئی اراضی کی کھدائی کےدوران ملا ہے۔
سپریم کونسل آف نوادرات کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر مصطفیٰ وزیری نے وضاحت کی کہ تابوت کو اٹھانے اور لے جانے کا عمل سخت سائنسی اصولوں اور معیارات کے مطابق کیا گیا۔ سپریم کونسل کے ماہرین کی ایک ورکنگ ٹیم آثار قدیمہ اور گرینڈ مصری میوزیم نے کھدائی کے مقام پر ابتدائی بحالی کا کام انجام دیا، جہاں تابوت اور ڈھکن کی میکانکی صفائی اور مضبوطی کا کام کیا گیا۔
اس حوالے سے نوادرات کی سپریم کونسل کے سکریٹری جنرل کے سائنسی دفتر کے ڈائریکٹر محمد السعیدی نے کہا کہ یہ تابوت کوارٹزائٹ پتھر سے بنا ہے۔یہ بادشاہ بسماتیک اول کے دور کا ہے۔ اس کا وزن تقریبا 62 ٹن ہے. انہوں نے مزید کہا کہ تابوت پر کی گئی ابتدائی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ چھبیسویں خاندان کے بادشاہ بسماتیک اول کے دور میں کاتبوں کے نگران کا تھا۔
نوادرات کی سپریم کونسل اس وقت تک کھدائی کا کام جاری رکھے گی جب تک کہ اس جگہ پر تمام کام مکمل نہیں ہو جاتا اور اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ یہ آثار قدیمہ کے کسی دوسرے ٹکڑوں کاحصہ نہیں۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ نئے بنہا یونیورسٹی ہسپتال کے قیام کا منصوبہ جو کہ 9,033 مربع میٹرکے رقبے اور 450 بستروں کی گنجائش والے ہسپتال کے طور پر میں لایا جا رہا ہے۔ ہسپتال کے لیے اطراف میں موجود تمام عمارتوں کو ہٹایا جائے گا۔