روس اور یوکرین

روس کے بغیر یوکرین پر کوئی بھی امن سربراہ اجلاس "بے کار" کوشش ہوگی: کریملن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے منگل کے روز شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ یوکرین پر کوئی بھی عالمی امن سربراہی اجلاس جس میں روس کو شامل نہ کیا جائے وہ محض "بے کار" ہوگا اور ناکام ہو جائے گا۔

پیسکوف نے اخبار "آرگومینتی ای فاکیتی" میں شائع انٹرویو میں مزید کہا کہ روس اپنے آپ کو مغرب سے بچانے کے لیے یوکرین کے خلاف دو سالہ جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔

ماسکو کے باہر ایک کنسرٹ ہال میں اندھا دھند فائرنگ سے ایک دن پہلے گذشتہ جمعرات کو کیے گئے انٹرویو میں پیسکوف نے کہا کہ "کیا یوکرین کا مسئلہ روس کی شرکت کے بغیر حل ہو سکتا ہے؟ جواب واضح ہے، یہ ممکن نہیں ہے"۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف۔ رائیٹرز
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف۔ رائیٹرز

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بین الاقوامی امن سربراہی اجلاس کا مطالبہ کیا ہے۔ سوئٹزرلینڈ نے اس سال کے شروع میں کہا تھا کہ وہ یوکرین ۔ روس تنازع پرعالمی کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔

روسی صدر ولادیمیر پوتین نے پہلے ہی یوکرین کے امن منصوبے کو ناقابل عمل قرار دیا ہے جس میں روسی افواج کے انخلاء اور یوکرین کی 1991ء کی سرحدوں کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پیسکوف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یہ منصوبہ ناقابل تصور تھا اور یورپی یونین اور دیگر ممالک کی طرف سے روسی اثاثوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کو کنٹرول کرنے اور انہیں یوکرین کے حوالے کرنے کے منصوبوں کی بھی مذمت کی۔

ادھر کیئف میں حکام نے پیر کو کہا کہ روس کے دو بیلسٹک میزائلوں کے شیل لگنے سے دس افراد زخمی ہوئے جنہیں یوکرین کے فضائی دفاع نے دارالحکومت پر مار گرایا۔

’اے ایف پی‘ کے صحافیوں نے امدادی کارکنوں کو پانچ دنوں کے اندر دارالحکومت میں تیسرے فضائی حملے میں تباہ ہونے والی دو عمارتوں میں سے ایک کا ملبہ ہٹاتے دیکھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں