فلسطین اسرائیل تنازع

امریکی مدد سے اسرائیل عرب ملکوں کی امن فوج بنا کر غزہ میں تعینات کرنے کے لئے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل کو اس بارے میں کامیابی ملنے کی امید پیدا ہو رہی ہے کہ حماس کے خاتمے کے بعد اسرائیل کو غزہ میں اپنی فوج کسی نئے خطرے میں جھونکنی نہیں پڑے گی ۔ جنگ کے بعد کے اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے اسرائیل نے کم از کم تین عرب ملکوں کی فوجوں پر مشتمل امن فوج بنا کر غزہ میں تعینات کرنے کی کوششیں شروع کر رکھی ییں۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیل کو امن فورس کے اس نئے منصوبے کے لئے امریکی حمایت بھی حاصل ہے۔ عبرانی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق جنگ اور غزہ کے خاتمے کے بعد مجوزہ عرب امن فوج غزہ کو کنٹرول کرے گی نیز امدادی سرگرمیوں کی بھی نگرانی کرے گی۔

ذرائع کے مطابق اب تک تین عرب ممالک سے اس حوالے سے رابطے اور بات چیت ہوئی ۔ تاہم ان ملکوں کے نام ابھی ظاہر کرنے سے گریز کی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔

ان ذرائع کے مطابق اس ممکنہ عرب امن فوج کی خدمات کی غزہ میں نگرانی امریکہ کرے گا۔ تاہم امریکی فوج زمین پر نظر نہیں آنے کی حکمت عملی پر عمل کرے گی۔

ان رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا اس منصوبے کے لئے تیار ہے تاہم اس کا مطالبہ یہ ہے کہ اسرائیل غزہ کو جنگ زدہ صورتحال سے نکالنے کے لیے بعد از جنگ منصوبے پر عمل درآمد شروع کرے۔

جمعرات کو 'العربیہ' نے رپورٹ کیا تھا' امریکی محکمہ دفاع اور بائیڈن انتظامیہ کے حکام کے مطابق، امریکہ میں ان دنوں پینٹاگون کی ایک تجویز زیر غور ہے جس کے تحت غزہ جنگ کے خاتمے کے بعد غزہ میں ایک امن فوج قائم کی جائے گی۔'

واضح رہے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں بظاہر پچھلے چند ہفتوں سے قدرے خفگی کا ماحول ہے۔ تاہم ضروری جنگی امور سمیت ہر شعبے میں موثر روابط ہیں اور کوئی ضروری کام تعطل کا شکار نہیں ہونے دیا جا رہا ہے۔

ادھر عرب ملکوں نے اپنی مجوزہ امن فوج کے بعد از غزہ جنگ غزہ میں تعینات کرنے کی اطلاعات کی تصدیق نہیں کی ہے۔ نہ ہی ابھی تک کوئی تبصرہ کیا ہے۔ دوسری جانب عرب ملکوں سے اسرائیل نے غزہ کی تعمیر نو کے لئے سرمایہ فراہم کرنے کے لئے کہا ہے۔ مگر عرب ممالک کا اصرار ہے کہ پہلے دوریاستی حل کی طرف عملی پیش رفت کی جائے۔ خیال رہے جب بھی کچھ برسوں کے بعداسرائیل غزہ کو جنگ میں تباہ کرتا ہے تو عرب ملک ہی اس کی تعمیر نو کے لئے بڑا سرمایہ فراہم کرتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ کے لئے عربوں کی اپنی امن فوج تعینات کی تجویز کے بارے میں اسرائیل نے بھی سرکاری طور پر کچھ نہیں کہا ہے۔ تاہم اطلاعات یہ ہیں کہ اسرائیلی وزارت دفاع اس سلسلے میں امریکی حکام سے رابطے میں ہیں اور کام کو مل کر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تاکہ امن فوج کا منصوبہ ممکن ہو سکے۔ البتہ رپورٹس میں یہ واضح نہیں ہے کہ عرب ملکوں کے فوجیوں پر مشتمل امن فورس غزہ میں مسلح ہو کر آئے گی یا اسے اسرائیل نے غیر مسلح ہو کر خدمات انجام دینے کا مینڈیٹ دیے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

تاہم یہ امن فورس بحری راستے سے امریکہ کی امدادی سرگرمیوں کی حفاظت کے لئے دستیاب رہے گی۔ ادھر غزہ میں اب تک 37000 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ اسرائیلی جنگ اب بھی پوری طرح غزہ میں جاری ہے۔ اسرائیل حماس کے مکمل خاتمے تک جنگ کو ختم نہیں کرنا چاہتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں