فلسطین اسرائیل تنازع

رفح میں کوئی بھی زمینی کارروائی غزہ جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوگی: فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان کرسٹوف لیموئن نے کہا ہے کہ ان کا ملک رفح میں کسی بھی اسرائیلی فوجی کارروائی کی مخالفت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رفح میں زمینی فوجی کارروائی غزہ کی پٹی میں جاری جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوگی۔

لی موئن نے العربیہ اور الحدث چینلوں کو بتایا کہ غزہ کی پٹی میں انسانی صورتحال اس وقت تباہ کن اور انتہائی نازک ہے۔

انہوں نے کہا کہ"جلد سے جلد جنگ بندی پر پہنچنا ضروری ہے تاکہ لڑائی کو روکا جا سکے اور خاص طور پر انسانی امداد کی ترسیل کی اجازت دی جائے، جس کی غزہ کے باشندوں کو اس وقت ضرورت ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ صدر عمانویل میکرون نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ رفح میں ہونے والے آپریشن کے امکانات کے بارے میں بہت فکر مند ہیں۔

رفح پر حملے کی تیاری

اسرائیلی نشریاتی ادارے نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا کہ اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی میں محفوظ زون میں نمایاں توسیع کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ قدم رفح شہر میں زمینی فوجی آپریشن کی تیاری کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ علاقہ المواسی سے النصیرات تک وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ اس علاقے میں تقریباً 10 لاکھ بے گھر افراد کو منتقل کیا جا سکے۔ وہاں 5 فیلڈ ہسپتال قائم کیے گئے ہیں۔

یہ بات اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہاگاری کے کل اتوار کے روز اس اعلان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ چیف آف اسٹاف نے غزہ کی پٹی میں جنوبی محاذ رفح میں آپریشن جاری رکھنے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔

یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کچھ عرصے سے غزہ کے انتہائی جنوب میں واقع شہر رفح پر زمینی حملے کی دھمکی دے رہے ہیں جہاں 15 لاکھ سے زیادہ افراد پناہ لیے ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں