اسرائیلی حکام کو گرفتار کرنے کی دھمکی شرمناک ہے: نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کے رہنماؤں کے خلاف بین الاقوامی گرفتاری وارنٹ جاری کیے جانے کے اسرائیلی خدشات کے تناظر میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں اور اہلکاروں کو گرفتار کرنے کی دھمکی شرمناک ہے اور ہم اس کے آگے سر تسلیم خم نہیں کریں گے۔

نیتن یاھو نے پلیٹ فارم ’’ ایکس‘‘ پر مزید کہا میری قیادت میں اسرائیل کبھی بھی بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے اپنے دفاع کے موروثی حق کو مجروح کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کی واحد جمہوری ریاست اور پوری دنیا کی واحد یہودی ریاست کے فوجیوں اور اہلکاروں کو گرفتار کرنے کی دھمکی شرمناک ہے۔

دفاع سے پیچھے نہ ہٹنے کا اعلان

انہوں نے کہا کہ اسرائیل فتح حاصل کرنے تک اپنی جنگ جاری رکھے گا، ہم اپنے دفاع سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا اگرچہ آئی سی سی اسرائیل کے اقدامات پر اثرانداز نہیں ہوگی لیکن اس کے فوجیوں اور اہلکاروں کو دھمکیوں دینے سے دہشت گردی سے لڑنے والی تمام جمہوریتوں کے لیے ایک خطرناک مثال قائم ہوگی۔

اسرائیلی میڈیا نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ بین الاقوامی فوجداری پراسیکیوٹر کریم خان وائٹ ہاؤس کی جانب سے گرین لائٹ کے بغیر اسرائیلی حکام کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری نہیں کرتے۔

وارنٹ جاری ہونے کا امکان

اسرائیلی چینل 12 نے کہا تھا کہ اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ ہیگ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت غزہ کی پٹی پر جنگ کی وجہ سے وزیر اعظم نیتن یاہو اور دیگر حکام کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کردے گی۔ چینل نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیل نے ایسی معلومات حاصل کی ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ عدالت اس اپریل کے اختتام سے قبل اس حوالے سے احکامات جاری کر دے گی۔ اسرائیلی چینل کے مطابق نیتن یاہو کے دفتر نے منگل کو ممکنہ گرفتاری کے احکامات پر تبادلہ خیال کے لیے ایک ہنگامی اجلاس بھی منعقد کیا ہے۔

برطانیہ و جرمنی سے مداخلت کی اپیل

یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ نیتن یاہو نے برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون اور ان کی جرمن ہم منصب اینالینا بیرباک سے ان کے دورہ اسرائیل کے دوران فوجداری عدالت کی جانب سے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے سے روکنے کے لیے مداخلت کرنے کو کہا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں