امریکی فوج کی بحیرہ احمر کی فضائی حدود میں پانچ مسلح ڈرون سے جھڑپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے اس کی افواج نے بحیرہ احمر کے اوپر 5 ڈرونز کو مار گرایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈرون خطے میں امریکی اور اتحادی بحری جہازوں اور تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ ہیں۔

یمنی حوثی گروپ نے جمعے کے روز کہا تھا کہ اس نے بحیرہ احمر میں ایک برطانوی تیل بردار جہاز کو متعدد بحری میزائلوں سے نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں اسے ’براہ راست نقصان پہنچا‘۔

حوثی فوج کے ترجمان یحیی سریع نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ ان کی فورسز نے جمعرات کو شمالی یمن کے صعدہ گورنری کی فضاء میں ایک امریکی MQ9 ڈرون کو میزائل سے مار گرایا۔

بحیرہ احمر میں کئی بحری جہازوں کو حوثی گروپ کے حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ وہ غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ میں فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کرتے ہوئے اسرائیلی جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

اتوار کے روز ایک برطانوی میری ٹائم اتھارٹی نے اطلاع دی تھی کہ جنوب مشرقی یمن کے ساحل سے 177 سمندری میل کے فاصلے پر ایک نیا واقعہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اتھارٹی نے کہا کہ ایک چھوٹی کشتی جس پر چار بندوق بردار سوار تھے نے یمن کے ساحل پر ایک بحری جہاز پر حملہ کیا۔

قابل ذکر ہے کہ 19 نومبرسے حوثی گروپ نے بحیرہ احمر اور بحیرہ عرب میں 100 سے زائد بحری جہازوں کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔

امریکہ اور برطانیہ حوثیوں کے ٹھکانوں پر براہ راست فضائی حملے کرتے ہیں جس کا مقصد اس گروپ کی نیوی گیشن کی آزادی کو خطرے میں ڈالنے اور عالمی تجارت کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں