امریکی کیمپسز میں فلسطینی حامی کیمپوں میں گرفتاریاں اور حملے جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

پولیس نے بدھ کے روز یونیورسٹی آف ٹیکساس میں احتجاجی کیمپ اکھاڑ دیا اور ایک درجن سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا جب غزہ پر اسرائیل کی جنگ کے خلاف امریکی تعلیمی اداروں کے کیمپسز میں بدامنی پھیل گئی۔

حکام نے بتایا کہ اہلکاروں نے نیویارک کی فورڈھم یونیورسٹی میں بھی کئی لوگوں کو حراست میں لیا اور ایک سکول کی عمارت کے اندر قائم کیمپ ہٹا دیا اور قانون نافذ کرنے والے ادارے گذشتہ شام بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کے بعد شہر کے طول و عرض میں کولمبیا یونیورسٹی میں ہمہ وقت کارروائی کے لیے تیار کھڑے تھے۔

میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں مظاہرین نے بدھ کی سہ پہر رش کے اوقات کے دوران کیمبرج میں کیمپس کے مرکز کے قریب ایک ایونیو کو بلاک کر دیا۔

اور رات کو اسرائیل کے حامیوں نے فلسطینی حامی طلباء کے کیمپ پر جو حملے کیے تھے، ان کے جواب میں پولیس کی درجنوں گاڑیاں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس میں گشت کرتی رہیں۔

سکول نے کہا، "یونیورسٹی آف ٹیکساس ڈیلاس میں پولیس نے ایک کیمپ کو ہٹا دیا اور کم از کم 17 افراد کو "مجرمانہ مداخلتِ بے جا" کے الزام میں گرفتار کر لیا۔"

گذشتہ ماہ سے کم از کم 30 امریکی یونیورسٹیوں میں پرامن مظاہرین جمع ہو چکے ہیں جو غزہ کی پٹی میں ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے خلاف احتجاج کے لیے اکثر خیمے نصب کر لیتے ہیں۔

لیکن امریکہ کی دو مشہور ترین یونیورسٹیوں میں ہیلمٹ والے افسران کی موجودگی نے کچھ طلباء کو خوفزدہ اور پریشان کر دیا۔

کولمبیا اور سٹی یونیورسٹی آف نیویارک (سی یو این وائے) میں جہاں پولیس نے مظاہرین کو راتوں رات ختم کر دیا، کچھ طلباء نے پولیس کے رویے کی مذمت کی۔

اپنا نام صرف جوز بتانے والے سی یو این وائے کے ایک طالب علم نے اے ایف پی کو بتایا، "ہم پر حملہ کیا گیا، بے دردی سے گرفتار کیا گیا۔ اور مجھے رہا کرنے سے پہلے چھ گھنٹے تک قید رکھا گیا، خوب مارا پیٹا، ٹھوکریں ماریں اور کاٹا گیا۔"

طب کی ایک طالبہ نے زیرِ حراست افراد کو رہا ہونے پر علاج کی سہولت فراہم کی اور ان کے زخموں کی داستان بیان کی۔

اپنا نام ازابیل بتانے والی طالبہ نے کہا، "ہم نے سر میں شدید صدمے، دماغی چوٹ جیسی چیزیں دیکھی ہیں، کسی کو پولیس نے احتجاجی کیمپ میں بے ہوش کر کے ڈال دیا، کسی کو سیڑھیوں سے نیچے پھینک دیا گیا۔"

پولیس کمشنر ایڈورڈ کیبن نے کہا کہ کولمبیا اور سی یو این وائے میں تقریباً 300 گرفتاریاں کی گئیں۔

میئر ایرک ایڈمز نے کشیدگی میں اضافے کے لیے "باہر کے مشتعل افراد" کو موردِ الزام قرار دیا۔ کولمبیا کے طلباء نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ اس میں بیرونی لوگ ملوث تھے۔

یونیورسٹی کی صدر منوشے شفیق جو پولیس کو بلانے کے فیصلے پر تنقید کی زد میں آ گئیں، نے کہا کہ ناگہانی واقعات پر "مجھے گہرا افسوس ہوا۔"

انہوں نے ایک بیان میں کہا، "مجھے افسوس ہے کہ نوبت یہاں تک آ پہنچی۔"

بے چینی کی لہر

مظاہروں نے یونیورسٹی کے منتظمین کے لیے ایک چیلنج کھڑا کر دیا ہے جن کا دعویٰ ہے کہ وہ مجرمانہ سرگرمیوں، یہود دشمنی اور نفرت انگیز تقریر کی شکایات کے ساتھ آزادئ اظہار کے حقوق کو متوازن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ - جو غزہ میں بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کے باوجود اسرائیل کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے نے بھی اعتدال قائم کرنے کی کوشش کی ہے جس نے کئی مظاہرین کو مشتعل کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کرائن جین پیئر نے صحافیوں کو بتایا، "ہم سمجھتے ہیں کہ طلباء کی بہت کم تعداد ہے جو اس رکاوٹ کا سبب بن رہے ہیں اور اگر وہ احتجاج کرنے جا رہے ہیں تو امریکیوں کو قانون کے اندر پرامن طریقے سے ایسا کرنے کا حق ہے"۔

نومبر کے انتخابات میں بائیڈن کے حریف ڈونلڈ ٹرمپ نے کولمبیا میں پولیس کے ردِعمل کے لیے اپنی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔

انہوں نے وسکونسن میں ایک ریلی کے موقع پر کہا، "یہ دیکھ کر بہت اچھا لگا۔ نیو یارک کی بہترین چیز۔"

نیز انہوں نے کہا، "ہر کالج کے صدر سے میں کہتا ہوں کہ کیمپوں کو فوری طور پر ہٹا دیں، بنیاد پرستوں کو ختم کریں اور تمام عام طلباء کے لیے ہمارے کیمپس واپس لے لیں۔"

'غیر قانونی اجتماع'

منگل کے آخر میں پولیس کولمبیا کے کیمپس میں داخل ہوئی اور لوگوں کو ہتھکڑیاں لگا کر لے جانے سے پہلے دوسری منزل کی کھڑکی سے ہیملٹن ہال پر چڑھ گئی - جہاں مظاہرین داخل ہوئے تھے - انہوں نے ایک بڑا خیمہ کیپپ بھی صاف کر دیا۔

لاس اینجلس میں اسرائیل کے حامیوں نے فلسطینیوں کے حامی کیمپ پر کیمیائی مادے کا چھڑکاؤ کیا اور لکڑی کے تختوں اور دھاتی رکاوٹوں کو توڑنے کی کوشش کی۔ آخرِ کار پولیس موقع پر پہنچ گئی۔

بدھ کے روز لاؤڈ سپیکر پر طلباء نے مظاہرین سے سکول کی ایک مرکزی لائبریری کے داخلی راستے کو روکنے والے کیمپ میں جانے کا مطالبہ کیا جہاں دیوار پر یہ الفاظ پینٹ کیے گئے تھے: "آزاد غزہ۔"

ٹی وی فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ دوسری جگہوں پر میڈیسن کے علاقے میں یونیورسٹی آف وسکونسن میں پولیس حرکت میں آئی اور متعدد مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔

ایریزونا یونیورسٹی میں پولیس نے کہا کہ انہوں نے ایک "غیر قانونی اجتماع" کو منتشر کرنے کے لیے "جلن پیدا کرنے والے کیمیکل والے گولہ بارود" کا استعمال کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں