یوروویژن مقابلوں کےدوران فلسطینیوں کی حمایت میں کوئی اشارہ یاعلامت قبول نہیں:انتظامیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یورو ویژن کے منتظمین نے کہا ہے کہ فلسطینی پرچم اور فلسطینیوں کی حمایت سے متعلق کسی بھی قسم کی علامت کو پروگرام سے ہٹانے کا پورا اختیار رکھتے ہیں۔ منتظمین نے یہ بات اگلے ہفتے سویڈن میں ہونے والے یورو ویژن کے مقابلے سے متعلق کہی ہے۔

انتظامیہ یورو ویژن کا یہ اعلان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کو سات ماہ مکمل ہونے کو ہیں۔ نیز یورو ویژن میں اسرائیل کی شرکت کے خلاف احتجاج بھی کیا جا رہا ہے۔

اس موقع پر توقع کی جارہی ہے کہ مقابلوں کے دوران مالمو میں اسرائیلی جنگ کے خلاف مظاہرے بھی کیے جائیں گے۔

یورپی نشریاتی یونین کی سربراہ مشیل رووریلی نے کہا ہے کہ یورو ویژن میں آنے والوں کو صرف اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ وہ مقابلے میں حصہ لینے والے ممالک کے پرچم لہرا سکیں گے۔ اس کے علاوہ قوس قزح کے رنگوں سے متعلق جھنڈے بھی لہرائے جا سکیں گے۔' رووریلی نے مزید کہا 'کسی بھی قسم کے دوسرے جھنڈے، لباس، بینرز، علامت یا اشیاء کو ہٹانے کا ہمیں پورا اختیار ہے۔'

رووریلی نے یہ بات سویڈن کے اخبار میں جمعرات کو شائع ہونے والی رپورٹ کے بعد کہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ یورو ویژن مقابلے کے منتظمین نے تقریب میں فلسطینی پرچم اور غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے خلاف کسی بھی قسم کے بینر پر پابندی لگا دی ہے۔

خیال رہے مقابلہ کے دوران پرچموں کی بہار کوتی ہے کہ شائقین اپنے ملک کی حمایت کے لیے پرچم ، بینرز اور دیگر علامتیں لہراتے ہیں۔ یورو ویژن سویڈن کے شہر مالمو میں 7 مئی سے 11 مئی تک منعقد ہوگا۔ واضح رہے مقابلہ جیتنے والا ملک اگلے سال میزبانی کے فرائض سر انجام دیتا ہے۔ سویڈن گانوں کے مقابلے کی مسلسل ساتویں بار میزبانی کرے گا۔

سویڈن کی پولیس کا کہنا ہے کہ یورو ویژن مقابلے کے سلسلے میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں