"امریکی یونیورسٹیوں میں اسرائیلی جنگ کے خلاف طلبہ کا احتجاج چند فیصد تک محدود ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وائٹ ہاؤس نے امریکی یونیورسٹیوں میں کئی دنوں سے طلبہ و طالبات اور اساتذہ کے جنگ مخالف مشترکہ احتجاج کو تھوڑی تعداد میں جمع لوگوں کو احتجاج کا نام دینے کے باوجود خلل اندازی کا باعث قرار دیا یے۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ اس احتجاج سے خلل کس کے لیے پیدا ہوا ہے اسرائیل کی جنگی پالیسی اور اقدامات میں یا امریکہ کی اسرائیلی جنگ میں مدد اور تعاون کی پالیسی میں عملی خلل پڑنے یا نقص امن کا کوئی ایسا واقعہ پیش آیا ہے، جسے امریکی یا عالمی میڈیا نے ابھی تک رپورٹ نہیں کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کرین جین بیئر نے بدھ کے روز امریکی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں جاری احتجاج سے خلل انگیزی کی تکلیف کے اظہار کے باوجود امریکی قانون میں عوام کے احتجاج کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ' وائٹ ہاؤس اپنے شہریوں کے احتجاج کے حق کی حمایت کرتا ہے۔ مگر یہ چند فیصد لوگ ہیں جو احتجاج کرتے ہوئے خلل ڈال رہے ہیں۔ '

واضح رہے امریکہ دنیا کے ان چند ملکوں میں سے ایک مگر نمایاں ترین ملک ہے جو انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کا غیر معمولی حامی ہے۔ اسی وجہ سے وہ دنیا کے تقریبا ہر ملک کے عوام کے حقوق کے لئے آواز اٹھاتا رہتا ہے۔ ہر سال دنیا کے مختلف ملکوں کے بارے میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹ جاری کرتا ہے۔ جہاں دیکھتا ہے کہ شہریوں کو ان کے حق سے روکنے کے لیے ریاستی طاقت کا ناجائز استعمال کیا جا رہا ہے اس کی کھلی نشاندہی کرتا ہے۔

اسی لیے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری نے اپنی یونیورسٹیوں میں جاری اس احتجاج کو بھی شہریوں کے حقوق کے تناظر میں ہی بیان کیا ہے کہ امریکی قانون میں پر امن احتجاج کا حق موجود ہے۔
تاہم پریس سیکرٹری نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا ' ہم یقین رکھتے ہیں کہ تھوڑی تعداد میں طلبہ یہ جنگ مخالف احتجاج کر رہے ہیں۔ اس وجہ سے احتجاج خلل انگیزی کا سبب بن رہا ہے۔ اگرچہ پر امن احتجاج کا حق امریکی قانون میں بھی دیا گیا ہے۔'

انہوں نے کہا وائٹ ہاؤس نفرت پر مبنی تقریروں کی مذمت جاری رکھے گا۔ نیز یہود دشمنی پر مبنی احتجاج کی مذمت کی ۔ جیسا کہ نوجوان اسرائیل کی غزہ جنگ میں اموات کی شرح کے خلاف کر رہے ہیں اور نوجوانوں کا یہ غصہ بڑھ رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں