کینیڈا: میتوں کی تدفین بھی مالی بوجھ ،لاشیں ہسپتالوں سے نہ لے جانے کی تعداد میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

کینیدا میں خوشحال زندگی کی تلاش میں امریکہ اور یورپ کی طرح بہت سے لوگ دورتے جاتے ہیں۔ مگر اسی کینیڈا کے بعض صوبوں میں سماجی و معاشی حالات کچھ اور ہی کہانی بیان کرے ہیں۔ کینیڈا میں اس وقت کئی صوبوں میں فوت شدہ شہریوں کی لاشوں کے لاوارث قرار دیے جانے کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

حالیہ چند برسوں میں یہ اضافہ تیزی سے ہو رہا ہے۔ کہ بہت سے کینیڈین اپنے پیاروں کی لاشوں کے اخراجات سے بچنے کے لیے ان کی لاشوں کو وصول نہیں کرتے بلکہ لاوارث قرار دے کر ہسپتالوں کے مردہ خانوں میں ہی چھوڑ دیتے ہیں۔

یہ رجحان کم از کم ایک صوبے میں اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اس صوبے میں لاشوں کو رکھنے کے لیے نئے سٹوریج بنانے کا سوچنا پڑا ہے نیز یادگاری فنڈ جمع کرنے والوں کی ضرورت میں اضافہ نظر آنے ضگا ہے۔

ایک انداز کے مطابق کینیڈا میں ان دنوں ایک میت کی تدفین کے مراحل کے لیے چھ ہزار ڈالر سے آٹھ ہزار ڈالر کی رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر انٹاریو کینیدڈ کا اس سلسلے میں سب سے زیادہ بد قسمت صوبہ ہے کہ اس میں اس 'خرچے کے بوجھ ' سے بچنے کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

واضح رہے انٹاریو میں 2013 میں ایسی لاوارث رہ جانے والی لاشوں کی تعداد 242 تھی جبکہ 2023 میں یہ تعداد 1183 ہو گئی ہے۔ یہ مسئلہ نہیں ہے کہ کینیڈا کوئی غیر تعلیم یافتہ یا غیر مہذب ملک ہے۔ کینیڈا میں تعلیم حاصل کرنے اور ہنر سیکھنے کے لیے دنیا بھر سے آتے ہیں۔ یہ ایک لبرل اور ڈیموکریٹ سوسائٹی کا نمائندہ ملک ہے۔

لیکن اس بیان کردہ رپورٹ کے مطابق میتوں کو لاوارث قرار دینے والے ماحول میں زیادہ قریبی رشتہ دار موجود تھے ، ان کی شناخت بھی ہو گئی تھی مگر وہ اپنے پیاروں کی لاشیں لے جانے سے مختلف وجوہ سے انکاری تھے۔ زیادہ تر نے مہنگائی اور اپنی غربت کا حوالہ دیا۔

رپورٹ کے مطابق 2022 کے مقابلے میں 2023 میں ایسی لاوارث قرار دی گئی لاشوں کی تعداد بیس فیصد سے چوبیس فیصد ہو گئی ہے۔ جن کے رشتہ داروں کی مالی حالت ٹھیک نہیں تھی۔

لاوارث لاشوں کے سلسلے میں سرکاری اعداو شمار کے مطابق کینیڈا میں 24 گھنٹوں کے دوران ایک لاش ضرور ایسی ہوتی ہے جسے لاوارث کہہ دیا گیا ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں