افغانستان کے صوبہ بامیان میں داعش کا حملہ، تین ہسپانوی سیاح ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغانستان میں داعش کی ایک نئی کارروائی کی اطلاع داعش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام چینل پر دی ہے۔ داعش کے مطابق صوبہ بامیان میں اس کے ایک بندوق بردار کے سیاحوں پر حملے کے نتیجے میں تین ہسپانوی سیاح ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ کم از کم ایک ہسپانوی سیاح زخمی ہوا ہے۔

داعش کی طرف سے یہ اطلاع اتوار کے روز دی گئی ہے جبکہ سپین کی وزارت خارجہ نے جمعہ کے روز ہی بتا دیا تھا کہ ہسپانوی سیاحوں پر افغانستان میں حملہ کیا گیا ہے۔

طالبان کی وزارت داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانع نے اس واقعے کے سلسلے میں بتایا ہے کہ ایک بندوق بردار کے حملے کے بعد چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق تین غیر ملکی اور ایک افغانی شہری بھی حملے میں ہلاک ہو گیا تھا۔ جبکہ چار غیر ملکی اور تین افغانی بھی زخمی ہوئے ہیں۔

پہاڑوں میں گھرا ہوا افغان صوبہ بامیان عالمی ورثے کی وجہ سے اقوام متحدہ کے ادارے کی خصوصی دلچسپیوں اور سرگرمیوں کا موضوع رہا ہے۔ اسی صوبے میں 2001 میں طالبان نے بدھ مت کے بانی مہاتما بدھ کے مجسموں کی باقیات کو آگ لگا دی تھی۔ یہ واقعہ ان کے پچھلے دور حکومت میں پیش آیا تھا۔

2021 میں دوباہ بر سراقتدار آنے کے بعد سے افغان طالبان صوبہ بامیان میں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کر رکھے ہیں۔ نیز آہستہ آہستہ سیاھوں کی آمد کی تعداد میں بھی اضافہ کیا جارہے۔ طالبان نے مہاتما بدھ کے مجسموں کو دیکھنے کے لیے آنے والے سیاحوں کو ٹکٹ بھی دیےہیں۔
جمعہ کے روز بامیان میں ہسپانوی سیاحوں پر کیا گیا حملہ 2021 میں طالبان کی افغانستان میں واپسی کے بعد سے پہلا بڑا واقعہ ہے۔ اس ے قبل داعش نے 2022 میں کابل میں ایک ہوٹلپر حملہ کرنے کے چینی شہریوں کو زخمی کیا تھا۔ کابل کا یہ ہوٹل چینی تاجروں کے قیام کے حوالے سے مشہور ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں