مراکش: ہزاروں شہریوں کا اسرائیل سے تعلقات کے خاتمے اور جنگ بندی کے حق میں مظاہرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ہزاروں مراکشی شہریوں نے کاسا بلانکا میں فلسطین کی آزادی اور غزہ میں جنگ بندی کے حق میں مظاہرے کیے ہیں۔ مظاہرین اسرائیل کے ساتھ مراکش کے تعلقات کے خاتمے کا مطالبہ بھی کر رہے تھے۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے نمائندے کے مطابق تقریباً پچھلے سات ماہ سے مراکش کے دارالحکومت میں فلسطین کے حامی مظاہرین اکٹھے ہو رہے ہیں اور نعرے لگا رہے ہیں 'فلسطین کو آزاد کرو' ، 'اگر ہم نہیں بولیں گے تو کون بولے گا' ، اسرائیل کے ساتھ مراکش اپنے تعلقات ختم کرے' اسی طرح کے دیگر کئی نعروں سمیت فلسطینی پرچموں اور فلسطینی شناخت بن چکی کوفیہ کو کندھوں پر حمائل کیے مظاہرین سڑکوں پر آگئے۔

خیال رہے شمالی افریقہ کی مسلم ریاست مراکش 2020 میں امریکی کوششوں کے نتیجے میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا آغاز کیا تھا۔ تب سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات ابراہم معاہدے کی اصطلاح کے مطابق 'نارملائز' ہو چکے ہیں۔

2020 میں ایسی ہی ایک کوشش متحدہ عرب امارات اور بحرین کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کامیاب ہوئی تھی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ دو خلیجی ریاستوں نے بھی اسرائیل کو تسلیم کر لیا۔

جب سے مراکش نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بنائے ہیں اس کے بدلے میں امریکہ نے مغربی صحارا کے علاقے پر مراکش کے اقتدار اعلیٰ کا دعویٰ تسلیم کر لیا ہے۔ تاہم سات اکتوبر 2023 کے بعد سے مراکشی شہری مسلسل غزہ جنگ کے خلاف اور فلسطینیوں کی ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ مراکش کے تعلقات ختم کیے جائیں۔

اتوار کے روز مراکش میں اسرائیل مخالف اور فلسطینیوں کے حامیوں کا یہ مظاہرہ کاسا بلانکا کے وسطی علاقے میں ہزاروں شرکاء کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ اس مظاہرے کی اپیل بائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ ساتھ مراکش کی اسلامی تحریکوں نے بھی کی تھی۔

45 سالہ زہرا نے اس موقع پر 'اے ایف پی' سے بات کرتے ہوئے کہا 'میں اس مظآہرے سے الگ نہیں رہ سکتی۔ نہ میں ان واقعات پر خاموش رہ سکتی ہوں جو فلسطینیوں کے ساتھ ہو رہے ہیں۔ فلسطینیوں کو ہر روز مارا جا رہا ہے۔ اس لیے ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا لازمی ہے۔'

48 سالہ ادریس عامر نے کہا 'ہم فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں اور صیہونیوں کے خلاف ہیں جنہوں نے غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام بپا کر رکھا ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا خاتمہ کیا جائے۔'

واضح رہے رباط میں سرکاری طور پر غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی ہے۔ لیکن ایسا کوئی تاثر نہیں دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اب تک غزہ میں 35456 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 80 ہزار کے قریب ہے۔ اسرائیلی فوج نے رفح پر اپنی کارروائیوں کے دوران 8 لاکھ فلسطینیوں کو چند دنوں کے دوران دوبارہ نقل مکانی پر مجبور کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں