امریکی قائدِ ایوانِ نمائندگان نیتن یاہو کو کانگریس سے خطاب کے لیے مدعو کرنے کے قریب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی ایوانِ نمائندگان کے ریپبلکن قائد نے منگل کے روز کہا، وہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کو قانون سازوں سے خطاب کے لیے مدعو کرنے کے قریب ہیں حتیٰ کہ اگر سینیٹ کے ڈیموکریٹک قائد ان کا ساتھ نہ دیں تب بھی وہ ایسا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ایوان کے سپیکر مائیک جانسن نے کیپیٹل میں صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے سینیٹ کے اکثریتی رہنما چک شومر کو منگل تک ایک خط پر دستخط کرنے کا وقت دیا تھا جس میں نیتن یاہو کو مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے کی دعوت دی گئی۔

جانسن نے کہا، "اگر نہیں تو ہم آگے بڑھ کر نیتن یاہو کو صرف ایوان میں مدعو کریں گے۔"

شومر نے تصدیق کی کہ وہ جانسن سے بات کر رہے تھے۔ شومر نے اپنی ہفتہ وار نیوز کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا، "میں اب ایوان کے سپیکر کے ساتھ اس پر بات کر رہا ہوں اور جیسا کہ میں نے ہمیشہ کہا ہے، اسرائیل کے ساتھ ہمارے تعلقات استوار ہیں۔ یہ کسی ایک وزیرِ اعظم یا صدر سے ماورا ہے۔"

اس معاملے پر دونوں جماعتوں کے درمیان ممکنہ تقسیم سے اسرائیل پالیسی کو سیاسی بنانے کی اہمیت نمایاں ہوئی ہے۔ اور یہ نومبر کے صدارتی انتخابات سے چند ماہ قبل ہو رہا ہے جس میں ڈیموکریٹک صدر جو بائیڈن سابق ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف انتخاب لڑ رہے ہیں۔

اسرائیل کے لیے ہتھیاروں کی ترسیل روکنے پر ریپبلکنز نے بائیڈن کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے حالانکہ شرقِ اوسط کے ملک کو امریکی ہتھیاروں کی دیگر ترسیل زیرِ تکمیل ہے۔

بائیڈن کے جنگ سے نمٹنے کا طریقہ ان کے کئی ساتھی ڈیموکریٹس اور امریکہ کے طول و عرض میں کالج کیمپس میں احتجاج کی وجہ بنا ہے۔ بائیڈن نے نیتن یاہو پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں شہریوں کی ہلاکتوں کو کم از کم کریں اور غزہ کے جنوبی شہر رفح پر بڑے پیمانے پر حملے کی مخالفت کی ہے۔

نیتن یاہو نے طویل عرصے سے خود کو امریکی ریپبلکنز کے ساتھ ہم آہنگ کر رکھا ہے۔ انہوں نے مارچ میں ایک ویڈیو لنک کے ذریعے سینیٹ میں پارٹی کے اراکین سے خطاب کیا تھا۔ اس سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے شومر نے سینیٹ میں تقریر کرتے ہوئے اسرائیلی وزیرِ اعظم کو امن کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا اور اسرائیل میں نئے انتخابات پر زور دیا تھا۔

غیر ملکی رہنماؤں کا امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاسوں سے خطاب ایک غیر معمولی اعزاز ہے جو عموماً امریکہ کے قریبی اتحادیوں یا بڑی عالمی شخصیات کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔ نیتن یاہو پہلے ہی تین بار ایسے خطابات کر چکے ہیں جن میں آخری مرتبہ 2015 میں خطاب کیا تھا۔

اُس سال کانگریس کے ریپبلکن رہنماؤں نے نیتن یاہو کو اُس وقت کے جمہوری صدر براک اوباما سے مشورہ کیے بغیر ایک مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے کی دعوت دی تھی کیونکہ نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ اوباما کے بین الاقوامی جوہری معاہدے کی مخالفت میں ریپبلکنز میں شامل ہو گئے تھے۔

نیتن یاہو کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے چار بار خطاب کرنے والے پہلے غیر ملکی رہنما ہوں گے۔ اس وقت وہ برطانیہ کے جنگ کے وقت کے وزیرِ اعظم ونسٹن چرچل کے ساتھ تین-تین سے برابر جا رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں