غزہ کی امداد روک دی گئی: اسرائیلی وزیر کا مصر پر الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل اور حماس کے درمیان ثالثوں (امریکہ، مصر اور قطر) کے ذریعے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے اور غزہ کی پٹی میں جنگ بندی پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی جاری کوششوں کے دوران ہی ایک اسرائیلی وزیر نے مصر پر غزہ کی پٹی کو امدادی سامان روکنے کا الزام عائد کردیا ہے۔

اسرائیلی دفاعی کابینہ کے رکن اسرائیلی وزیر برائے سٹریٹجک امور رون ڈرمر نے مصر پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مصر غزہ میں شہریوں کی قیمت پر سیاست کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مصری حکام ہزاروں ٹرکوں کو محصور سیکٹر میں داخل ہونے سے روک رہے ہیں۔

اسرائیل کی رفح پر زمینی دراندازی اور پھر رفح کراسنگ کے فلسطینی حصے پر قبضے کے بعد اسرائیل اور مصر کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر رفح کراسنگ بند کرنے کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔ کئی مصری حکام نے تصدیق کی ہے کہ رفح میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں امداد کے داخلے میں رکاوٹ ہیں۔ مصر حکام نے کہا ہے کہ رفح کراسنگ سے امداد کے داخلے سے قبل اسرائیل کراسنگ کو فلسطینیوں کو واپس کر دے۔

یہ کشیدگی بدھ 22 مئی کو اس وقت اپنے عروج پر پہنچ گئی جب مصر نے جنگ بندی مذاکرات کی ثالثی سے دستبردار ہونے کی دھمکی دی۔

واضح رہے غزہ پر اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد سے رفح کراسنگ کا انسانی بنیادوں پر امداد اور کچھ تجارتی سامان لانے میں اہم کردار تھا۔ اسرائیل نے 6 مئی کو کراسنگ کے فلسطینی حصے پر حملہ کرکے اس کا کنٹرول سنبھال لیا جس کے بعد کراسنگ سے غزہ آنے والی امداد کی ترسیل بھی رک گئی۔ مصر نے کراسنگ کے اپنے حصے کی طرف کھڑے امدادی ٹرکوں کو واپس کردیا۔ اب کراسنگ سے 45 کلومیٹر طور العریش میں سڑک پر امدادی سامان جمع ہوتا جارہا۔ گرمی کے باعث سامان کا بڑا حصہ خراب بھی ہونے لگا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں