روس پر یوکرینی حملے میں خفیہ امریکی ہتھیاروں کے استعمال کا بھانڈا پھوٹ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی حکام نے جمعرات کو بتایا ہے کہ صدر جو بائیڈن نے خاموشی سے کیئف کو روس کے اندر حملے کے لیے واشنگٹن کے فراہم کردہ ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت دی ہے لیکن یہ اجازت صرف یوکرین کے شمالی شہر خار کیئف کے ارد گرد کے علاقے کے ساتھ سرحد کے قریب کے لیے ہے۔

یہ فیصلہ بائیڈن کی پالیسی میں تبدیلی کے مترادف ہے جنہوں نے اب سے پہلے تک یوکرین کو روس کے اندر حملوں کے لیے امریکی ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت دینے سے پختگی اور تسلسل سے انکار کیا تھا۔

ایک امریکی اہلکار نے کہا، "صدر نے حال ہی میں اپنی ٹیم کو یہ بات یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے کہ یوکرین خار کیئف کے علاقے میں جوابی فائرنگ کے مقاصد کے لیے امریکی فراہم کردہ ہتھیاروں کا استعمال کر سکے تاکہ جو روسی افواج ان پر حملہ یا حملہ کرنے کی تیاری کر رہی ہیں، یوکرین ان کے خلاف جوابی وار کر سکے۔"

واشنگٹن میں روس کے سفارت خانے اور نیویارک میں اقوامِ متحدہ میں روس کے مشن نے فوری طور پر اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

نیٹو کے اتحادی امریکہ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ یوکرین کو روس کے اندر اُن میزائل لانچر اور دیگر فوجی مقامات کے خلاف مغربی ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت دی جائے جو اس ماہ خارکیئف کی طرف ماسکو کی جانب سے شروع کردہ سرحد پار کارروائی کی حمایت کر رہے ہیں۔

روس کے اندر پرواز کرنے والے روسی لڑاکا جیٹ طیارے خارکیو اور یوکرائن کی دفاعی لائنوں پر گلائیڈ بم چلا کر اس مہم کی حمایت کرتے رہے ہیں۔

پینٹاگون نے کہا کہ روس کے اندر امریکی ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی جس کے کچھ ہی دیر بعد صدر بائیڈن کے فیصلے پر مبنی خبر سامنے آ گئی۔

پینٹاگون کی ترجمان سبرینا سنگھ نے کہا،"ہم یوکرین کو جو سکیورٹی امداد فراہم کرتے ہیں وہ یوکرین کے اندر استعمال کرنے کے لیے ہے۔ اور ہم روس کے اندر حملوں یا حملوں کو فعال کرنے کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں