مالدیپ نے اسرائیلی شہریوں کے ملک میں داخلے پر پابندی لگا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مالدیپ نے فلسطینوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور غزہ جنگ کے خلاف بطور احتجاج اسرائیلی شہریوں کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

مالدیپ کے صدراتی دفتر کے مطابق ملک میں اسرائیلی پاسپورٹ ہولڈرز کے داخلے پر پابندی عائد کی جا رہی ہے، کابینہ نے اسرائیلی شہریوں کے ملک میں داخلے سے متعلق قوانین میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔

صدراتی دفتر کی جانب سے مزید کہا گیا کہ فلسطینیوں کی امدادی مہم کے لیے مالدیپ کے صدر محمد معیزو خصوصی ایلچی بھی تعینات کریں گے۔

خیال رہے مالدیب نے اسرائیلی شہریوں کے ملک میں داخلے پر 1990 پابندی لگائی تھی جو کہ 2010 میں ہٹا لی گئی تھی اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا کام شروع کیا گیا۔

تاہم اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی کوششیں اس وقت ختم ہو گئی جب 2012 میں محمد ناشید کی حکومت ختم کی گئی۔

غزہ جنگ کی شروع ہونے کے بعد اپوزیشن جماعتیں اور حکومتی اتحادی صدر پر اسرائیلی شہریوں کے ملک میں داخلے پر پابندی لگانے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق رواں سال کے پہلے چار مہینوں کے دوران ملک میں اسرائیلی شہریوں کی آمد میں 88 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

اس دوران کل 528 اسرائیلی شہریوں نے مالدیپ کا دورہ کیا۔ خوبصورت سیاحتی مقامات کے لیے مشہور مالدیپ میں گزشتہ سال 11 ہزار اسرائیلی سیاح آئے تھے۔

اسرائیلی شہریوں پر پابندی کے جواب میں اسرائیل کے وزارت خارجہ کے ترجمان نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ مالدیپ نہ جائیں۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ جو اسرائیلی شہری مالدیپ میں ہیں وہ ملک چھوڑنے پر غور کریں کیونکہ اگر وہ کسی مشکل میں پھنس گئے تو حکومت کے لیے ان کی مدد کرنا مشکل ہو جائے گا۔

اسرائیلی وزارت خارجہ نے مالدیپ میں موجود اسرائیلی شہریوں کو بھی ملک چھوڑنے کی تجویز دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں