سوڈان: الفشیر کا مرکزی ہسپتال نیم فوجی ملیشیا کے حملے کے بعد بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوڈان میں جاری خانہ جنگی کے دوران متحارب گروپ کے طور پر کام کرنے والے والے نیم فوجی 'ریپڈ فورسز' کے دستوں نے اسرائیلی فوج کے انداز میں ہسپتال پر حملہ کر دیا ہے۔ جس کے بعد ہسپتال کو بند کرنا پڑ گیا ہے۔ ہسپتالوں پر اس طرح کے حملوں کا طرہقہ حالیہ مہینوں میں اسرائیلی فورسز نے غزہ میں جنگ کے دوران متعارف کرایا ہے۔ جس کی دنیا بھر میں مذمت کی جاتی ہے مگر اسرائیلی فوج پوری ڈھٹائی سے یہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

الفشیر کے اس ہسپتال پر نیم فوجی دستوں کے حملے کی بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والی تنظیم ' ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز' نے بھی مذمت کی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر سرگرم ڈاکٹروں کی اس تنظیم کو ان دنوں اس نئے چیلنج کا سامنا ہے جس کا بدترین آغاز اسرائیلی فوج نے غزہ میں کیا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہاں تک کہ سوڈان میں بھی پہنچ گیا ہے۔

واضح رہے الفشیر شہر سوڈان کے علاقے دارفور کے علاقے میں ہے۔ یہ علاقہ سوڈان کے شمال مغرب میں واقع ہے۔ یہاں کی آباد ٓی 18 لاکھ کے لگ بھگ ہے اور ان دنوں سوڈانی فوج اور نیم فوجی دستوں کے درمیان لڑائی کا مرکز بنا ہوا ہے۔

اس شہر میں یہ سب سے بڑا ہسپتال ہے اور متحارب فورسز کی لڑائی کے زخمیوں کو دیکھ رہا تھا۔ اقوام متحدہ کے ادارے سوڈان میں اس جنگی صورت حال کے باعث قحط کے خطرات دیکھ رہے ہیں۔ پچھلے دو ماہ کی لڑائی کے دوران الفشیر سے ایک لاکھ تیس ہزار کے قریب نقل مکانی کر چکے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ' رائٹرز' نے رپورٹ کیا ہے کہ بند ہو جانے والے ہسپتال میں 10 مئی سے چھ جون تک 1315 زخمی افراد ہسپتال لائے گئے، جن میں سے 208 ہلاک ہو گئے۔

25 مئی سے اب تک تین بار ہسپتال کے زخمیوں اور عملے کے ارکان کو حملوں کے باعث بھاگنے کی کوشش کرنا پڑی ہے لیکن اب تازہ تازہ حملہ ایک باقاعدہ حملہ تھا، جس کے بعد ہسپتل کا بروئے کار رہنا ممکن نہ رہا۔

انسانی حقوق کی ایک تنظیم ہیومینیٹیرین ریسرچ لیب کے مطابق مارچ سے اب تک شہر سے باہر تقریباً 40 بستیوں کو آتش زنی کے حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں