یورپی پارلیمان کے چناؤ میں دائیں بازو کی برتری، فرانس میں سیاسی بھونچال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

فرانس میں یورپی یونین کے انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت کی کامیابی فرانس میں ایک بڑے سیاسی زلزلے کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ یورپ کے دوسرے ملکوں میں بھی مذہبی جماعتوں کی جیت کی اطلاعات اور ووٹ بنک میں اضافے کی خبریں اسی جانب اشارہ کرتی ہیں۔

لا محالہ اس رجحان کا اثر کسی حد تک امریکہ میں بھی اپنی جھلک دکھا سکتا ہے۔ لیکن فی الحال یورپ کے بارے میں ہی بات ہو گی کہ یورپی پارلیمنٹ کے انتخابات اس کے لیے ایک بہتر بنیاد فراہم کر رہے ہیں۔ کیا یہ حیران کن اشارے ہیں؟

ایسا بالکل نہیں ہے۔ یورپ اور امریکہ میں نسل پرستانہ اور قوم پرستانہ رجحانات کے علاوہ اگر کوئی رجحان موجود ہے تو یہی مذہبی رجحان ہے، اگرچہ یہ ریاستی سطحوں پر بظاہر قبول نہیں کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کے اثرات گہرے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ یورپ اور امریکہ میں لبرل طبقیات کے بظاہر لبرل ایجنڈے کے فیصلے اور پالیسیاں بھی متاثر انہی اقوام اور معاشروں یا ملکوں ک کو کرتے ہیں جن کی مذہبی سوچ کے بارے میں ان یورپی ملکوں کی ایک خاص نوعیت کی سوچ ہے۔ کامل غیر مذہبی رجحان دکھانے کی کوشش میں بھی اندر سے مزہبی جہت کا دخل اپنا کام دیکھا جاتا ہے۔

امریکہ کا وائٹ ہاوس ہو یا یورپی ملکوں کے غیر مذہبی نظریے اور شناخت کے دعووں کے باوجود صلیبی نشان کے حامل پرچموں کی رنگا رنگ دنیا ۔ مذہبی، اشارے اور استعارے نمایاں ہو ہی جاتے ہیں۔

انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی فرانسیسی رہنما مارین لی پین۔
انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی فرانسیسی رہنما مارین لی پین۔
یورپی کمیشن کی سربراہ ارسلا وون در لین
یورپی کمیشن کی سربراہ ارسلا وون در لین

اس لیے یورپی پارلیمنٹ کے انتخابات کے لیے یورپی عوام نے اپنے ووٹ کے استعمال میں مذہب پسندی اور دائیں بازو کی سیاست کے حق میں رائے دی ہے تو یہ یورپ و امریکہ کی برسوں سے چلی آ رہی پالیسیوں اور فیصلوں کے ساتھ ساتھ میڈیا کی رجحان سازی اور پالیسی کا کیا دھرا ہے۔

بصورت دیگر باہر کی دنیا میں تو ایسا کوئی مذہبی چیلنج اس وقت یورپ کو درپیش نہیں ہے جس کا اسے رد عمل کہا جا سکے۔ آنے والے برسوں میں یہ شدت پسندی یورپ میں مزید بڑھے گی۔

اس لیے فرانس کے ساتھ ساتھ باقی یورپ میں بھی اس کے سیاسی اعتبار سے ایک بڑی موسمیاتی اشاروں اور پیشن گوئی کی شکل میں نتائج سامنے آئے ہیں۔ ہاں آنے والے کل میں یہ ایک بڑے زلزلے کا سبب ضرور بن سکتے ہیں۔ سیاسی زلزلے کے اچانک پن کا احساس اس لیے ہے کہ یورپ بظاہر غیر مذہبی رجحانات کے ساتھ ہے۔

یورپی یونین کے انتخابات نے انتہائی دائیں بازو کو نشیب سے فراز کی طرف جاتے دیکھ لیا ہے۔ فرانس کے علاوہ بھی یہ رجحان کئی ملکوں میں موجود ہے۔ لیکن ایک زیادہ اہم ملک ہونے کی وجہ سے فرانس میں یہ تبدیلی ظاہر بیں آنکھوں کے لیے زیادہ معنی خیز اور توجہ کی متقاضی ہے۔

اس ناطے یورپی یونین کے انتخابات فرانس میں ایک بڑے زلزلے کا باعث سمجھا جا رہا ہے۔ لیکن ایک تاثر یہ بھی ہے کہ فرانس کا یہ سیاسی زلزلہ برسلز میں کسی عدم توازن کا سبب نہیں بن سکے گا۔

اب تک سامنے آنے والے انتخابی اعداد وشمار کے مطابق مجموعی طور پر دائیں بازو کی قوم پرست جماعتوں کو کامیابی مل رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں جن دو رہنماؤں کو زیادہ شدید جھٹکا لگا ہے ان میں جرمن چانسلر اولف شولز اور فرانس کے صدر عمانویل میکروں نمایاں ہیں۔ صدر میکروں نے تو معاملے کو خطرہ مانتے ہوئے اسمبلی بھی توڑ کر قانون ساز اسمبلی کے نئےانتخابات کی تاریخ 30 جون مقرر کر دی یے۔

یورپی پارلیمان کے انتخابات میں کل 360 ملین ووٹروں نے یورپی پارلیمنٹ کے لیے 720 ارکان کا انتخاب کرنا ہے۔ یہ انتخابی سلسلہ جمعرات سے ایسے خطے میں جاری رہا ہے جہاں ان دنوں معاشی چیلنج درپیش ہیں۔ گویا معاشی مشکلات میں گھرا یورپ ہی اس سیاسی زلزلے کی بھی زد میں ہے۔ معاشی کے ساتھ ساتھ یہ سٹریٹجک چیلنج چین کی طرف سے امریکہ اور یوریی یونین دونوں کے لیے سمجھا جا رہا ہے۔ اگرچہ کئی ملکوں نے چین کے اس چیلنج کو موقع میں بدلنے کا بھی سوچ رکھا ہے۔

فرانس میں، اردن بارڈیلا کی قیادت میں نیشنل ریلی پارٹی جو اب نیشنل فرنٹ کہلاتی ہے؛ 31.5 فیصد سے زیادہ ووٹوں کے ساتھ آگے ہے۔ پولنگ سے متعلق اداروں کے اندازوں کے مطابق، صدر میکروں کی قیادت میں جماعت کےمقابل دائیں بازو کی جماعت میکروں کی پارٹی سے پندرہ اعشاریہ دو فیصد ووٹوں سے آگے ہے۔ اس طرح نیشنل فرنٹ پارٹی یورپی پارلیمنٹ کی 81 میں سے 31 نشستیں حاصل کرسکے گی۔

جرمنی میں، حالیہ سکینڈلوں کے ماحول میں دائیں بازو کی الٹرنیٹیو فار جرمنی پارٹی سولہ اعشاریہ پانچ فیصد کم ووٹوں کے ساتھ زیادہ قدامت پسندوں کے تقریبا تیس فیصد ووٹوں کے ساتھ اگے ہے۔ لیکن انہوں نے دو حکمران اتحادی جماعتوں سوشل ڈیموکریٹس پر بڑے مارجن سے لیڈ لی ہے۔

اٹلی اور آسٹریا

رائے عامہ کے مختلف جائزوں کے مطابق، اٹلی میں، انتہائی دائیں بازو کی جماعت اخوان (برادرز آف اٹلی) پارٹی اگے ہے۔ اس کی قیادت اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کے پاس ہے۔ان کی جماعت 25 سے 31 فیصد ووٹوں کے ساتھ سب سے آگے ہے۔ (واضح رہے یہ اخوان مصر والی اخوان نہیں ہے۔ یہ اٹلی کی اخوان ہے۔ مگر اس کا نام انگریزی زبان میں برادرز آف اٹلی مشہور ہے)

آسٹریا میں بھی، انتہائی دائیں بازو کی فریڈم پارٹی نے ستائیس فیصد ووٹ لے کر نمایاں پوزیشن حاصل کر لی ہے۔اس طرح گیئرٹ ولڈرز کی انتہائی دائیں بازو کی پارٹی کی پوزیشن پہلے سے مضبوط ہو گئی ہے۔

سپین اور پولینڈ کے نتائج

سپین میں، سرکاری نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ دائیں بازو کی پاپولر پارٹی، جو کہ ہسپانوی اپوزیشن میں اہم ہے نل نے یورپی پارلیمنٹ میں 22 نشستیں حاصل کیں، جبکہ وزیراعظم پیڈرو سانچیز کی قیادت میں سوشلسٹوں کو بھی یورپی یونین کے لیے 20، اور انتہائی دائیں بازو کی ووکس پارٹی نے 20 نشستیں حاصل کی ہیں۔ اس نے پہلے سے چھ نشستیں زیادہ لی ہیں۔

جہاں تک پولینڈ کا تعلق ہے، وزیر اعظم ڈونالڈ ٹسک کی زیرقیادت مرکزیت پسند یورپی پارٹی نے پاپولسٹ نیشنلسٹ لاء اینڈ جسٹس پارٹی پر برتری حاصل کی ہے۔ لیکن ابھی ووٹوں کا ایک اہم حصہ برقرار رکھا گیا ہے، انتہائی دائیں بازو، جس کی نمائندگی کنفیڈرا پارٹی کرتی ہے، امکان ہے کہ جماعت بھی یورپی پارلیمنٹ میں 6 سے کم نشستیں حاصل نہیں کرے گی،

یورپی پارلیمنٹ میں انتہائی دائیں بازو دو بلاکوں میں تقسیم ہے۔ جن کے درمیان بڑے اختلافات کی وجہ سے، خاص طور پر روس کے حوالے سے باہم اتحاد غیر یقینی ہے۔ لیکن یورپی ممالک میں یہ لہر ان انتہاؤں کو بھی ایک دوسرے کی جانب دھکیل سکتی ہیں ، جیسا کہ اسرائیل میں ایک اکتھ ہو چکا ہے اور نویں ماہ سے غزہ میں جنگ کیے جا رہا ہے۔

جیک ڈیلورس انسٹی ٹیوٹ کے سیباسٹین ملر نے 'اے ایف پی' کو دیے گئے اپنے ایک بیان میں کہا ہے 'دائیں بازو اور خود مختارانہ حق کی حامی جماعتوں کے ووٹوں کو ایک ساتھ نہیں لایا جا سکتا اور اس سے قانون ساز کونسل میں ان کا براہ راست وزن محدود ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتہائی دائیں بازو کا عروج اب فرانس میں نمایاں ہے،

تجزیہ کاروں کے مطابق دائیں بازو کے لوگ بدنیتی سے اثر انداز ہو سکیں گے۔ انتہائی دائیں بازو اہم مسائل پر اپنی آواز بلند کر سکتا ہے:

ان موضوعات میں توسیع پسند روس کے خلاف دفاع، زرعی پالیسی، ہجرت، 2040 تک کے لیے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے اہداف اور ماحولیاتی اقدامات کے تسلسل کو وہ سختی سے مسترد کرتے ہیں۔

صدر یورپی کمیشن ارسلا وان ڈی لیین کا کہنا ہے کہ وہ اس پوزیشن میں ہیں کہ بائیں بازو اور دائیں بازوکے انتہا پسندوں کو مقابلہ کریں کیونکہ ان کا پختہ اندازہ میں کہا ہے کہ 'یورپین پیپلز پارٹی ایک مضبوط ترین پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں