اسرائیل سے تعلقات پرتنقید،امریکی کمپنی نےملائیشیا ایئرپورٹ کی نجکاری میں حصہ نہیں لیا
ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے اِن دعووں کو بے بنیاد قرار دیا
گلوبل انفراسٹرکچر پارٹنرز (جی آئی پی) نے کہا کہ اس کی خریدار کمپنی بلیک راک ملائیشیا کے ہوائی اڈوں کی نجکاری میں شریک نہیں ہو گی کیونکہ مسلم اکثریتی ملائیشیا میں امریکی فرم کو اسرائیل کے ساتھ مبینہ تعلقات پر تنقید کا سامنا ہے۔
جی آئی پی، ملائیشیا کا خودمختار دولت فنڈ خزانہ نیشنل اور دیگر ادارے ایک کنسورشیم کا حصہ ہیں جو نجکاری کے ایک سودے میں ملائیشیا ائیرپورٹ (ایم اے ایچ بی) کا انتظام سنبھالنے کی پیشکش کر رہے ہیں جس سے ائیرپورٹ آپریٹر کو 3.9 بلین ڈالر ملیں گے۔
یہ منصوبہ ملائیشیا میں حکمران جماعت اور حزبِ اختلاف کے بعض قانون سازوں کی طرف سے تنقید اور احتجاج کی زد میں آیا ہے جو فلسطینیوں کا کٹر حامی ہے۔ جی آئی پی کا اسرائیل میں بلیک راک کی اہم سرمایہ کاری سے تعلق ہے جو غزہ میں فلسطینی گروپ حماس کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔
غزہ جنگ پر میکڈونلڈز اور سٹاربکس جیسے مغربی برانڈز کے خلاف بائیکاٹ مہمات کے بعد ملائیشیا میں مظاہروں کا تازہ ترین ارتکاز ایم اے ایچ بی کی طے شدہ نجکاری پر ہے۔
ریاستی خبر رساں ایجنسی برناما نے جمعہ کو جی آئی پی کے شعبہ ٹرانسپورٹ کے سربراہ فل ایلی کے تحریری جواب کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی: جی آئی پی نے کہا کہ بلیک راک کی طرف سے اس کے حصول کے بعد اس کی قیادت کی موجودہ ٹیم "جی آئی پی اور جن کمپنیوں میں ہم نے سرمایہ کاری کی ہے، ان کی تزویراتی سمت اور آپریشن کے لئے مکمل کنٹرول اور ذمہ داری برقرار رکھے گی"۔
جی آئی پی کے ترجمان نے برناما رپورٹ کی تصدیق کی۔ خزانہ نے فوری طور پر تبصرہ کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
ایلی نے کہا کہ فرم اقلیتی حصص مالک ہونے کے باوجود ایم اے ایچ بی کو زیادہ سے زیادہ آپریشنل اعانت اور مدد فراہم کرے گی۔
انہوں نے لکھا، "اگر ہم اپنی تبدیلی میں کامیاب ہو جائیں تو مستقبل میں ملائیشیا کی سٹاک ایکسچینج میں ایم اے ایچ بی کو کاروبار کے لیے دوبارہ پیش کرنے پر غور کریں گے۔"
برناما کی اطلاع کے مطابق خزانہ نے کہا ہے کہ جی آئی پی، ایم اے ایچ بی کا براہِ راست انتظام کرنے کے لیے عملے کی خدمات حاصل نہیں کرے گی جبکہ ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے کمپنی کا نام لیے بغیر ان دعووں کو بے بنیاد قرار دیا ہے کہ ایم اے ایچ بی کے 25 فیصد حصص کی ملکیت صیہونی نواز کمپنی کے پاس ہے۔
معاہدے کے تحت جی آئی پی اور ابوظہبی انویسٹمنٹ اتھارٹی ایم اے ایچ بی کے 30 فیصد کی مالک ہوں گی جبکہ زیادہ تر حصص خزانہ اور ملائیشیا کی سب سے بڑی پنشن باڈی ایمپلائز پراویڈنٹ فنڈ کے پاس ہوں گے۔ فنڈ نے بیان پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
بلیک راک کا 12.5 بلین ڈالر میں جی آئی پی کا حصول تیسری سہ ماہی میں مکمل ہونے کی امید ہے۔ ایم اے ایچ بی ملائیشیا کے 39 ہوائی اڈوں اور ترکی میں ایک بین الاقوامی ہوائی اڈے کا انتظام کرتی ہے۔