بلغراد میں اسرائیلی سفارت خانے کے باہر حملے کے بعد دو افراد زیرِ حراست

سربیا اپنے قرینی دوست اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت جاری رکھے ہوئے ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایک وزیر نے اتوار کو بتایا کہ بلغراد میں اسرائیلی سفارت خانے کے باہر ایک "ہدفی دہشت گردانہ حملے" میں کمان نما ہتھیار سے حملہ کرنے والے ایک شخص کو سربیا کے ایک پولیس افسر نے قتل کر دیا جس کے بعد دو افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔

حملہ آور جس کی شناخت پولیس نے "ایک نو مسلم" کے طور پر کی ہے، نے افسر پر اس وقت حملہ کیا جب وہ ہفتے کی صبح اسرائیلی سفارت خانے کے سامنے ڈیوٹی پر تھا۔

پولیس اہلکار نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی اور حملہ آور بعد میں ہلاک ہوگیا۔

پولیس نے بتایا کہ حملہ آور بلغراد کے قریب ملاڈینویک سے تعلق رکھنے والا نووی پزار میں رہتا تھا جو سربیا کی بوسنیائی مسلم اقلیت کا تاریخی اور سیاسی مرکز ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی سروسز سے واقف متعدد افراد پر حملے سے منسلک ہونے کا شبہ تھا۔

وزیر داخلہ آئیویکا ڈاچچ نے اتوار کو سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی ایس کو بتایا، "سربیا میں کئی مقامات پر تلاشی اور درجنوں لوگوں سے تفتیش کی گئی۔"

انہوں نے مزید کہا کہ استغاثہ اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا ان کا تعلق "ہدفی دہشت گردانہ حملے" سے تھا۔

وزیر نے کہا کہ دو افراد کو حراست میں لیا گیا۔

ڈاچچ نے کہا، پورے ملک میں سکیورٹی کو اعلیٰ ترین سطح تک بڑھا دیا گیا ہے اور پولیس کارروائی جاری ہے۔

"انتہا پسندوں، دہشت گردوں اور جو لوگ براہ راست حملے میں ملوث ہیں، یہ ان کے خلاف آپریشن ہے لیکن ان لوگوں کے خلاف بھی ہے جن کے بارے میں یہ اشارے ملے ہیں کہ ان کا تعلق دہشت گرد گروہوں سے ہو سکتا ہے۔"

اسرائیل کے وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز نے ہفتے کے روز "بلغراد میں اسرائیل کے سفارت خانے پر دہشت گردانہ کارروائی کی کوشش کے بعد مضبوط حمایت اور تعاون" کے لیے سربیا کے حکام کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا۔ "دہشت گردی کو برداشت نہیں کیا جا سکتا!"

سربیا میں اسرائیلی سفیر یاہیل ولان نے اتوار کو بلغراد کے ایک ہسپتال میں زخمی اہلکار کی عیادت کی۔

سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد سے سربیا نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت جاری رکھی ہوئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں