بلغراد پولیس نے پیر کے روز ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا ہے جس کے پاس تیر کمان اور چاقو تھا اور وہ تھانے کی طرف جا رہا تھا۔ یہ گرفتاری اسرائیلی سفارت خانے پر تیر کمان سے کیے گئے حملے کے دو دن بعد عمل میں آئی ہے۔
پولیس حکام کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس شخص نے تھانے کے سامنے رکاوٹوں کو عبور کرنے کی کوشش کی تاکہ تھانے کی طرف بڑھ سکے۔ تاہم اسے رکنے کا حکم دیا گیا اور پھر اس نے وہاں سے نکل بھاگنے کی کوشش کی۔ اس دوران پولیس افسران نے اس کو گرفتار کر لیا اور اس کی تلاشی لی۔
اس کے پاس سے سات تیروں کے ساتھ ایک کمان برآمد کی گئی۔ کئی چاقو برآمد کیے گئے۔ جبکہ ایک ایسا مرتبان پکڑا گیا جس میں دھماکہ کرنے والے کریکر رکھے ہوئے تھے۔ ان سب چیزوں کے ساتھ مسلح ہونے کی وجوہات تلاش کرنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے شخص کا نام ممکنہ انتہا پسندوں کی فہرست میں شامل نہیں ہے جو سیکیورٹی حکام نے مرتب کر رکھی ہے۔
پولیس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ گرفتار کیے گئے شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ جرائم پیشہ مافیا اور خفیہ ایجنسیاں اس کا پیچھا کرتی ہیں۔
سربیا پولیس کی وزیر ایویکا داسس کا کہنا ہے کہ اس شخص کا طبی معائنہ کرایا جا رہا ہے جبکہ مزید اقدامات اور تفتیش کے لیے پراسیکیوٹر اپنا کام شروع کر رہے ہیں۔
واضح رہے سربیا میں ہفتہ کے روز سے ہائی الرٹ چل رہا ہے کہ ہفتہ کے روز سپیشل پولیس یونٹ کے ایک اہلکار کو اسرائیلی سفارت خانے کے سامنے گردن میں تیر سے نشانہ بنا کر زخمی کر دیا گیا تھا۔
بعد ازاں پولیس حکام نے تیر کمان سے حملہ کرنے والے شخص کو موقع پر گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ پولیس ڈیپارٹمنٹ کی وزیر نے اس واقعہ کو سنگین جرم قرار دیا تھا۔
سپیشل یونٹ کا زخمی پولیس اہلکار ابھی بھی ہسپتال میں زیرعلاج ہے۔ ہلاک شدہ حملہ آور کی اہلیہ ان دنوں مونٹینیگرو میں مقیم ہے جس سے سربیا کی درخواست پر پولیس تفتیش کر رہی ہے۔