ریاستی خبر رساں ایجنسی اور ایک مقامی اہلکار نے جمعرات کو بتایا کہ یورپ جانے والے تقریباً 90 تارکین وطن اس ہفتے کے شروع میں ماریطانیہ کے ساحل پر اس وقت ڈوب گئے جب ان کی کشتی الٹ گئی جبکہ مزید درجنوں لاپتہ ہیں۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بتایا، "ماریطانیہ کے ساحلی محافظ نے ماہی گیری کی ایک بڑی روایتی کشتی پر سوار 89 افراد کی لاشیں برآمد کیں جو پیر یکم جولائی کو بحرِ اوقیانوس کے ساحل پر الٹ گئی"۔ یہ واقعہ ملک کے جنوب مغربی شہر اینڈیاگو سے تقریباً چار کلومیٹر کے فاصلے پر پیش آیا۔
ایجنسی نے کہا کہ کوسٹ گارڈ نے پانچ سالہ بچی سمیت نو افراد کو زندہ بچا لیا۔
ایجنسی نے زندہ بچ جانے والوں کے حوالے سے بتایا کہ کشتی سینیگال اور گیمبیا کی سرحد سے روانہ ہوئی تھی جس میں 170 مسافر سوار تھے جس سے لاپتہ ہونے والوں کی تعداد 72 ہو گئی۔
مقامی حکومت کے ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو ایسی ہی معلومات دیں۔
بحرِ اوقیانوس کا راستہ خاص طور پر تیز اور بلند لہروں کی وجہ سے خطرناک ہے جہاں تارکینِ وطن پرہجوم اور اکثر غیر محفوظ کشتیوں میں سفر کرتے ہیں جن میں کافی مقدار میں پینے کا پانی نہیں ہوتا۔
لیکن بحیرۂ روم میں بڑھتی ہوئی نگرانی کی وجہ سے اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔
ہسپانوی حکومت کے مطابق 2023 میں سپین کے کینری جزائر پر اترنے والے تارکینِ وطن کی تعداد ایک سال میں دوگنا سے زیادہ بڑھ کر 39,910 تک پہنچ گئی۔
شمالی افریقہ کے ساحل سے دور سپین کے کینری جزائر قریب ترین مقام پر 100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔
لیکن کئی کشتیاں -- اکثر لکڑی کی لمبی مستولی کشتیاں جنہیں پیروگز کہا جاتا ہے -- بہت دور سے روانہ ہوتے ہوئے مراکش، مغربی صحارا، موریطانیہ، گیمبیا اور سینیگال سے سفر کرتی ہیں۔
ایک ہسپانوی خیراتی ادارے کیمینانڈو فرونٹیرس کے مطابق اس سال کے پہلے پانچ مہینوں میں سمندر کے راستے سپین پہنچنے کی کوشش میں 5,000 سے زیادہ تارکینِ وطن ہلاک ہوئے جو یومیہ 33 اموات کے برابر ہے۔
2007 میں اعداد و شمار کا موازنہ کرنے کے بعد سے یہ سب سے زیادہ یومیہ اموات ہیں اور ان کشتیوں کی اکثریت بحر اوقیانوس کے راستے پر گامزین تھی۔