یورپی یونین کے حقوق کے نگراں ادارے نے جمعرات کو کہا، یورپ کی یہودی برادری کو "یہود منافرت کی بڑھتی ہوئی لہر" کا سامنا ہے کیونکہ شرقِ اوسط میں تنازعات کی وجہ سے اس منافرت کے خلاف لڑائی میں پیشرفت "ختم" ہو رہی ہے۔
بنیادی حقوق کی ایجنسی کی ڈائریکٹر سرپا روتیو نے کہا، "شرقِ اوسط میں تنازعات کے پھیلاؤ کے اثرات سے یہود منافرت سے نمٹنے کے لیے سخت جدوجہد کی پیشرفت ختم ہو رہی ہے"۔
انہوں نے مزید کہا، 2021 میں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے یورپی یونین نے جو اولین حکمتِ عملی اختیار کی، یہ اس کی کامیابی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
جیسا کہ حقوق کی تنظیم نے یورپ میں یہود منافرت پر ایک رپورٹ شائع کی ہے تو انہوں نے خبردار کیا، "یہودی پہلے سے کہیں زیادہ خوفزدہ ہیں۔"
اس تحقیق میں پتا چلا ہے کہ سات اکتوبر کے حملے سے پہلے بھی 96 فیصد یورپی یہودیوں نے کہا کہ انہیں گذشتہ سال میں یہود منافرت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
شرقِ اوسط میں تنازعات کے یورپ میں یہود منافرت پر ہونے والے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے اس رپورٹ میں 2024 میں 12 یہودی تنظیموں سے جمع کردہ معلومات پر انحصار کیا گیا ہے۔
روتیو نے کہا، "2024 کے اوائل میں قومی اور یورپی یہودی تنظیموں کی ایف آر اے سے مشاورت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہود منافرت پر مبنی حملوں میں ڈرامائی اضافہ" ہوا ہے۔
فرانس میں 74 فیصد یہودیوں نے محسوس کیا کہ تنازعات نے ان کے احساسِ تحفظ کو متأثر کیا۔ سروے کیے گئے ممالک میں یہ شرح سب سے زیادہ ہے۔
رپورٹ کے ہمراہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا، یورپ کے طول و عرض میں 76 فیصد افراد نے اپنی یہودی شناخت کو "کم از کم کبھی کبھار" چھپانے کی اطلاع دی اور 34 فیصد افراد یہودی تقاریب یا مقامات سے گریز کرتے ہیں "کیونکہ وہ محفوظ محسوس نہیں کرتے"۔
ویانا میں قائم ایجنسی کی رپورٹ کا بڑا حصہ 2024 کے اعداد و شمار کے علاوہ ایک آن لائن سروے پر مبنی تھا جو غزہ میں جنگ شروع ہونے سے پہلے جنوری سے جون 2023 تک کیا گیا۔
سروے میں شامل اسی فیصد یہودیوں نے کہا، وہ محسوس کرتے ہیں کہ حالیہ برسوں میں یہود منافرت مزید بڑھ گئی ہے۔
جن سے سوالات کیے گئے، انہیں سب سے زیادہ عام پائے جانے والے "منفی دقیانوسی تصورات" کا سامنا تھا اور وہ یہودیوں پر "مالیات، میڈیا، سیاست یا معیشت پر طاقت اور کنٹرول" کا الزام تھا۔
کئی لوگوں نے یہ بھی اطلاع دی کہ انہیں اسرائیل کے بطور ریاست وجود کے حق سے انکار کا سامنا کرنا پڑا۔
2023 میں کل چار فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ انہیں سروے سے پہلے کے 12 ماہ میں یہود منافرت پر مبنی جسمانی حملوں کا تجربہ ہوا -- یہ 2018 میں ریکارڈ کی گئی تعداد سے دوگنا ہے۔
تقریباً 60 فیصد نے کہا کہ وہ یہود منافرت کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی قومی حکومتوں کی کوششوں سے مطمئن نہیں تھے۔
سروے میں یورپی یونین کے 13 ممالک کا احاطہ کیا گیا جہاں اس بلاک کی 96 فیصد یہودی آبادی ہے: آسٹریا، بیلجیم، جمہوریہ چیک، ڈنمارک، فرانس، جرمنی، ہنگری، اٹلی، ہالینڈ، پولینڈ، رومانیہ، سپین اور سویڈن۔
یہ 2013 اور 2018 کے بعد اپنی نوعیت کا تیسرا واقعہ تھا۔