امریکی نیوز چینل "سی این این" نے منگل کے روز با خبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران میں امریکا کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قتل کی کوشش کے لیے ایرانی سازش کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات موصول ہوئی تھیں۔
ایک امریکی ذمے دار کے مطابق سیکرٹ سروس ادارے نے ٹرمپ کی انتخابی مہم کو بڑھتے ہوئے خطرے کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔
وائٹ ہاؤس نے اس پر تبصرے سے انکار کر دیا تاہم یہ بتایا کہ اس بات کے اشاریے نہیں ملتے کہ ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ کرنے والے مشتبہ شخص کا کوئی بھی امریکی یا غیر ملکی شرکت دار ہے۔
وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کونسل کی ترجمان اڈریان واٹسن نے بتایا کہ "ہم کئی بار کہہ چکے ہیں کہ ہم کئی برس سے ٹرمپ انتظامیہ میں سابق ذمے داران کے خلاف ایرانی دھمکیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں ... ان دھمکیوں کی جڑ قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا انتقام لینے کی ایرانی خواہش ہے۔ ہمارے نزدیک یہ مسئلہ قومی اور داخلہ سلامتی کا ہے جس کو انتہائی اولین ترجیح حاصل ہے"۔
ادھر اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو جاری بیان میں کہا ہے کہ "ان الزامات کے پیچھے خاص مقصد ہے تاہم یہ بے بنیاد الزامات ہیں اسلامی جمہوریہ ایران کے نقطہ نظر سے ٹرمپ مجرم ہیں اور قانونی عدالت میں ان کے خلاف کارروائی اور سزا ہونی چاہیے کیوں کہ انہوں نے جنرل سلیمانی کے قتل کا حکم دیا تھا۔ ایران نے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا"۔
ہفتے کے روز پنسلوینیا میں انتخابی ریلی میں پہنچنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کو قاتلانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ ایک 20 سالہ مسلح نوجوان نے تقریبا 150 میٹر کی دوری سے ایک عمارت کی چھت سے گولیاں چلائی تھیں۔ حملے کے نتیجے میں ٹرمپ کا کان زخمی ہو گیا جب کہ مجمع میں موجود ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد امریکی سیکرٹ سروس کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔