شادی کرنے والے چینی جوڑوں کی تعداد 12 سال کی کم ترین سطح پر آ گئی
اعداد و شمار کے مطابق معاشی سست روی اور اخراجات میں اضافہ اس کی وجہ ہیں
سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ چین میں معیشت کی سست روی اور زندگی کے اخراجات میں اضافے کے باعث زیادہ نوجوان اپنی شادیاں ملتوی کر رہے ہیں جس سے اس سال کی پہلی ششماہی میں شادی کرنے والے چینی جوڑوں کی تعداد 2013 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آگئی۔
چین میں شادیوں کی تعداد بچوں کی پیدائش کی تعداد سے گہرا تعلق رکھتی ہے اور شادیوں میں کمی سے پالیسی سازوں کے پریشان ہونے کا امکان ہے جو مسلسل دو سالوں سے سکڑتی ہوئی آبادی بڑھانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔
شادیوں کی رجسٹریشن کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ سال کی پہلی ششماہی میں مجموعی طور پر 3.43 ملین جوڑے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے جو ایک سال پہلے کے اسی عرصے کے مقابلے میں 498,000 کم ہے۔
وسیع تر ترغیبات اور پالیسیوں میں والدین کے لیے اپنے بچے کو رجسٹر کرنے اور ریاستی فوائد حاصل کرنے کے لیے شادی کا سرٹیفکیٹ پیش کرنے کی شرط بھی شامل ہے جس کی بنا پر شادی کو بچے پیدا کرنے کے لیے ایک شرط کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
دنیا کی دوسری بڑی معیشت میں ترقی کی رفتار کم ہونے کی وجہ سے بہت سے چینی نوجوان ملازمت کے ناقص امکانات اور مستقبل کے بارے میں تشویش کا شکار ہیں اور اسی لیے وہ تنہا رہنے یا شادی میں تاخیر کا فیصلہ کر رہے ہیں۔
آبادی کے ماہر ہی یافو نے سرکاری حمایت یافتہ اخبار گلوبل ٹائمز کو بتایا، چین میں شادی کی شرح 2014 سے کم ہو رہی ہے۔ جبکہ 2023 میں وبائی پابندیوں میں نرمی کے بعد بڑھتی ہوئی طلب کی وجہ سے اس میں معمولی اضافہ ہوا لیکن اس سال یہ شرح 1980 کے بعد سب سے کم رہنے کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ شادیوں کی رجسٹریشن میں کمی کی وجوہات میں نوجوانوں کی تعداد میں کمی، شادی کے قابل آبادی میں مردوں کی تعداد خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہونا، شادی کے زیادہ اخراجات اور بدلتے ہوئے رویئے شامل ہیں۔
انہوں نے کہا، "مستقبل میں چین میں شرح پیدائش کے گھٹتے ہوئے رجحان کو بنیادی طور پر تبدیل کرنا مشکل ہو گا جب تک مستقبل میں اس چیلنج سے نمٹنے کی غرض سے بچے کی پیدائش کے حوالے سے خاطر خواہ پالیسیاں نافذ نہ کی جائیں"۔
چین کی سول افیئر یونیورسٹی نے شادی سے متعلق صنعتوں اور ثقافت کو فروغ دینے کے لیے ایک نئے انڈر گریجویٹ میرج پروگرام کا اعلان کیا جس پر سوشل میڈیا صارفین نے طعنہ زنی کی جنہوں نے سوال اٹھایا کہ جب شادی کی شرح میں کمی ہو رہی ہے تو ایسے کورس کی کیا ضرورت ہے۔