امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ ان کے ملک نے ایران اور اسرائیل کو یہ پیغام پہنچایا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں تنازع کو بڑھانے سے گریز کیا جائے۔
بلنکن نے بدھ کے روز بتایا کہ امریکی ذمے داران خطے میں حلیفوں اور شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور اس حوالے سے آراء میں واضح موافقت ہے کہ کسی کو بھی صورت حال بگاڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ پیغام براہ راست ایران اور اسرائیل کو پہنچا دیا گیا ہے۔
بلنکن کے مطابق امریکا حملوں کے خلاف اسرائیل کا دفاع جاری رکھے گا تاہم انھوں نے واضح کیا کہ خطے میں تمام فریقوں کو جارحیت اور غلط اندازوں کے خطرات جان لینے کی ضرورت ہے۔
انھوں نے کہا کہ "مزید حملوں کے جو نتائج سامنے آئیں گے ان پر کوئی بھی پوری طرح قابو نہیں پا سکے گا"۔
امریکی وزیر خارجہ کا یہ بیان آسٹریلوی ہم منصب کے ساتھ ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔ ملاقات میں امریکا اور آسٹریلیا کے وزرائے دفاع بھی موجود تھے۔ اینٹنی بلنکن کے مطابق غزہ کی جنگ میں فائر بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جاری بات چیت حتمی مرحلے تک پہنچ گئی ہے اور اسے بہت جلد اختتام پر پہنچ جانا چاہیے۔
یاد رہے کہ حماس تنظیم کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو گذشتہ ہفتے ایران کے دار الحکومت تہران میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد ایران نے اسرائیل کو انتقام کی دھمکی دی۔ تاہم اسرائیل نے اس کارروائی کی ذمے داری قبول نہیں کی۔
ایران کا کہنا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کے قتل کی ذمے داری امریکا پر بھی عائد ہوتی ہے کیوں کہ وہ اسرائیل کو سپورٹ کرتا ہے۔