لندن میں بڑھتے ہوئے کرایوں کے باعث ’ڈیٹنگ‘ کا رحجان فروغ پانے لگا

رہائشی شراکت کے لیے اچھا ساتھی ملنا مشکل، معیاری جگہوں کی کمی، مسائل میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

ہاتھ میں کاک ٹیل تھامے جوزفین رائٹ مغربی لندن کے ایک بار میں دوسری خاتون سے اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہتی ہیں، "میں ایک سافٹ ویئر انجینئر ہوں۔"

بالکل ان 70 دیگر نوجوان خواتین کی طرح جنہوں نے اپنی 7.50 پاؤنڈ (9.65 ڈالر) فیس ادا کی ہے، جوزفین کا بس ایک مقصد ہے: اپنے ساتھ گھر میں رہنے کے لیے ایک مثالی ساتھی تلاش کرنا۔

کہتے ہیں کہ ایک ایسے شہر میں جہاں کرایہ زیادہ اور انتخاب کے مواقع کم ہیں، وہاں تلاش کا عمل تیز کرنے کے لیے یہ ایک چھوٹی سی قیمت ہے جس میں بصورتِ دیگر مہینوں لگ سکتے ہیں۔

وقت ضائع کیے بغیر خواتین گھر کے لیے ممکنہ ساتھی تلاش کرنے کی غرض سے سوال و جواب کا سیشن شروع کر دیتی ہیں جس میں وہ لوگوں کے ترجیحی محلوں، پیشوں، پس منظر اور مشاغل کے بارے میں پوچھتی ہیں۔ دو گھنٹے میں وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں سے بات کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

وقت کی قید کے باوجود ماحول پر سکون ہے۔ بار کے عقب میں کاک ٹیل بنانے والی مشینوں اور بلند قہقہوں اور گپ شپ کی ملی جلی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔

25 سالہ رائٹ نے اپنے لیے تین ترجیحی محلوں "گرین وچ، والتھیمسٹو اور لیوشم" کی فہرست بنا رکھی ہے جبکہ حاضرین میں سے ایک اور شخص کے قریب لفظ "مشرق" کا نشان ٹیپ کے ساتھ چسپاں نظر آتا ہے جو مشرقی لندن میں فلیٹ کرائے پر لینے کے خواہشمند افراد کے لیے ہے۔

دونوں نے کلائی پر نیلے رنگ کی ایک پٹی باندھ رکھی ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انہیں پہلے فلیٹ کے لیے ساتھی کی تلاش ہے اور رہنے کی جگہ وہ بعد میں دیکھیں گے۔

چند ایک نے جامنی رنگ کے کنگن نما کلائی میں پہن رکھے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے لیے ہیں جن کے پاس پہلے ہی کرائے کے لیے جگہ ہے اور وہ لوگوں کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں۔

گرلیز گائیڈ نامی تقریب کی شریک بانی ریچل مور کہتی ہیں، "میرے خیال میں یہ لندن میں خاص طور پر ایک منفرد بات ہے کہ آپ کے پاس 30 اور 40 کی عمر کے لوگ گھر میں شراکت کے خواہشمند ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ لوگ خاص طور پر اس صورتِ حال سے دوچار ہونا چاہتے ہیں، یہ ایک ایسی صورتِ حال ہے جس میں لوگ مجبوری کے عالم میں گذارہ کر رہے ہیں۔"

کئی شرکاء 1,500 پاؤنڈ (1,900 ڈالر) ماہانہ تک کے بظاہر آسان بجٹ میں بھی خود لندن میں فلیٹ کرایہ پر لینے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

'نیا رجحان'

یونان سے تعلق رکھنے والی 22 سالہ انٹرن آئیونا نوٹ کرتی ہیں، "اگر آپ خود ایک اچھا فلیٹ چاہتے ہیں تو یہ بنیادی طور پر تقریباً 1,500 سے 1,800 یا 2,000 پاؤنڈ ماہانہ میں ملتا ہے۔"

مشترکہ رہائش میں کرایہ داروں کو 1,000 پاؤنڈ سے بھی کم میں کمرہ مل سکتا ہے۔

چونکہ لندن بڑھتے ہوئے کرایوں کی لپیٹ میں ہے تو زیادہ سے زیادہ نوجوان پیشہ ور افراد خود اپنی رہائش کے بجائے شراکتی بنیاد پر گھر لینے کے خواہشمند ہیں۔

لندن سکول آف اکنامکس میں اکنامکس کے معاون پروفیسر انتونیو میلے کے مطابق "یہ ایک نیا رجحان ہے۔"

بلند شرحِ سود نے مالکان پر دباؤ ڈالا ہے جس سے وہ کرائے بڑھانے یا بیچنے پر آمادہ ہو رہے ہیں۔

نتیجہ کرائے کے مکانات کم اور قیمتیں زیادہ ہو گئی ہیں۔

برطانیہ میں لیبر پارٹی کی نئی حکومت نے مزید نئے گھروں کی تعمیر کے لیے منصوبہ بندی کی پابندیوں میں نرمی کے ذریعے بحران کو کم کرنے کی کوشش کا عزم ظاہر کیا ہے۔

مناسب جگہوں کی کمی کے ساتھ ترقیاتی منصوبوں کی ممکنہ مخالفت کا البتہ مطلب یہ ہے کہ یہ مقصد حاصل کرنے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔

انتونیو میلے کہتے ہیں کہ کرایہ دار اپنی آمدنی کا اوسطاً 35 سے 40 فیصد کرایہ پر خرچ کرتے ہیں۔ وہ توقع کرتے ہیں کہ آئندہ سالوں میں یہ تناسب بڑھے گا۔

لندن کی کشش

رہائشی جگہ کی قیمت کا اشتراک کئی لوگوں کے لیے ایک ضرورت بن گیا ہے حالانکہ ایک اچھا شراکت دار تلاش کرنا آسان نہیں ہے۔

سڈنی سے لندن منتقل ہونے والی 35 سالہ میگن بریور کہتی ہیں کہ "آپ کئی لوگوں کو پیغامات بھیجتے ہیں اور آپ کو بہت زیادہ جوابات نہیں ملتے۔"

اس صورتِ حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض بے ضمیر مکان مالکان رہائشی کمروں کو خواب گاہوں میں تبدیل یا کمروں کو دو حصوں میں تقسیم کر رہے ہیں۔

میلے مزید کہتے ہیں، "کمرے کے طور پر جس چیز کا اشتہار دیا جاتا ہے، وہ صرف دوسرے یورپی ممالک میں سامان ذخیرہ کرنے کی جگہ کے طور پر قابلِ قبول ہو سکتی ہے۔ آپ کے کمرے میں کوئی کھڑکی نہیں ہوتی اور صرف بستر لگانے کی جگہ ہوتی ہے جبکہ پیسے بہت زیادہ مانگے جاتے ہیں۔"

رہائشی ساتھیوں کے لیے اپنی "تیز رفتار ڈیٹنگ" تقریبات شروع کرنے سے پہلے مور اور شریک بانی میا گومز کو کرائے کے مکانوں کی مارکیٹ کے حوالے سے مسائل درپیش تھے۔

گومز کہتے ہیں، "جب ہم جائیدادیں دیکھنے گئے تو مالک مکان نے ہمیں بتایا، میں نے آج 30 دیگر گروپس دیکھے ہیں جبکہ اشتہار صرف ایک یا دو دن پہلے دیا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "آپ کو مکان حاصل کرنے کے لیے ایک جنگ لڑنا پڑتی ہے اور جائیداد کی قیمت سے زیادہ رقم کی ادائیگی کرتے ہیں۔"

لیکن کئی لوگوں کے لیے لندن میں فروغ پزیر ملازمتوں کے مواقع اور ایک رنگا رنگ ثقافتی زندگی اس قابل ہے کہ مشکلات کے باوجود یہاں رہا جا سکتا ہے۔

رائٹ نے مزید کہا، "مجھے اپنی بچت میں کمی کرنا ہو گی۔ لیکن میرے خیال میں یہ اچھا سودا ہے۔ میں اپنی عمر کے 20 کے عشرے میں ہوں۔ میں زندگی جینا چاہتی ہوں، مختلف طریقے سے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں