غزہ میں مصالحت کا سمجھوتا برباد ہونے کے قریب ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن دس ماہ کے اندر مشرق وسطیٰ کا نواں دورہ مکمل کر کے منگل کے روز واپس روانہ ہو گئے۔ دورے کے دوران میں انھوں نے اسرائیل اور حماس تنظیم کو تصفیے کے اُس منصوبے پر قائل کرنے کی کوشش کی جو واشنگٹن نے غزہ کی پٹی میں فائر بندی کے لیے پیش کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ "وقت ختم ہو رہا ہے"۔

بلنکن کا یہ بیان دوحہ کے ہوائی اڈے سے واشنگٹن روانگی سے قبل سامنے آیا۔

امریکی ذمے داران کے مطابق جنگ بندی کے وساطت کاروں کی جانب سے پیش کی گئی تجویز اس طریقے سے خلا کو پُر کرتی ہے جس سے معاہدے کو جلد نافذ کیا جا سکتا ہے۔

تاہم اسرائیلی جانب سے بالخصوص وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور حماس کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات اور تبصرے حوصلہ افزا نہیں ہیں۔

امریکی اور اسرائیلی عہدے داران کے مطابق ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں لڑائی کے خاتمے کے لیے تیار کیا گیا سمجھوتا برباد ہونے کے قریب ہے۔ اس حوالے سے کوئی واضح متبادل معاہدہ موجود نہیں جس کو فی الوقت پیش کیا جا سکے۔

غزہ کی پٹی میں بڑے پیمانے پر تباہی
غزہ کی پٹی میں بڑے پیمانے پر تباہی

مذکورہ ذمے داران کے مطابق موجودہ تجویز جس کو امریکا، اسرائیل، مصر اور قطر کی جانب سے کئی ہفتوں تک زیر بحث لایا گیا ، یہ ابھی تک کا مضبوط ترین منصوبہ ہے۔ اس لیے کہ یہ حماس اور اسرائیل دونوں کے مطالبات پورے کرنے کے لیے مصمم شرائط کی ضمانت دیتا ہے۔

البتہ ان ذمے داران کے مطابق امریکی انتظامیہ کے ان اندیشوں میں اضافہ ہو رہا ہے کہ حماس اور اسرائیل کے بیچ اختلافات جاری رہنے کے سبب یہ تجویز بھی سابقہ تجاویز کی طرح ناکامی سے دوچار ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب توقع ہے کہ رواں ہفتے مذاکرات کاروں کی قاہرہ واپسی ہو گی جہاں وہ سمجھوتے کی تفصیلات کے حوالے سے موافقت کی کوشش کریں گے۔ ان مذاکرات کاروں میں مشرق وسطی کے امور کے لیے وائٹ ہاؤس کے سینئر مشیر بریٹ مک گورک شامل ہیں۔

حالیہ جاری مذاکرات میں اسرائیلی موقف سے با خبر ذرائع نے بتایا ہے کہ "ہمیں نہیں معلوم آیا حماس کے نئے سربراہ یحیی السنوار یہ معاہدہ چاہتے ہیں یا نہیں ، تاہم اگر ہم کسی سمجھوتے تک نہ پہنچے تو ایران کے حملے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں وسیع ٹکراؤ ہو سکتا ہے"۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے گذشتہ روز بیان میں باور کرایا تھا کہ ان کا ملک مصر کے ساتھ سرحد پر رفح کی راہ داری اور فلاڈلفیا (صلاح الدین) راہ داری کے علاوہ نتساریم کے علاقے کا کنٹرول بھی نہیں چھوڑے گا جو غزہ کی پٹی کو شمال اور جنوب میں تقسیم کرتا ہے۔ اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اعلان کیا تھا کہ تل ابیب ترمیم شدہ امریکی تجویز پر آمادہ ہو گیا ہے۔

دوسری جانب حماس تنظیم کا کہنا ہے کہ "امریکی انتظامیہ اسرائیلی شرائط کے سامنے جھک گئی ہے۔ حالیہ تجویز دو جولائی کو پیش کی گئی امریکی تجویز سے یکسر مختلف ہے"۔

یاد رہے کہ مذکورہ راہ داریوں پر کنٹرول کے علاوہ اسرائیل غزہ کی پٹی کے جنوب سے شمال کی سمت واپس آنے والے فلسطینیوں پر تلاشی کا عمل بھی لاگو کرنے کی شرط پر قائم ہے۔ مزید یہ کہ تل ابیب نے حماس کی جانب سے رہائی کے مطالبے میں شامل فلسطینی قیدیوں کے متعدد ناموں کی مخالفت کر دی ہے۔

ادھر حماس نے اسرائیل کی ان شرائط کو مسترد کر دیا ہے۔ تنظیم نے غزہ سے اسرائیل کے مکمل انخلا اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں