ہالینڈ کے شہر ہیگ میں عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے پراسیکیوٹر کریم خان نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو، وزیر دفاع یوآو گیلنٹ اور حماس کے سربراہ یحیی السنوار کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے میں تاخیر نہ کی جائے۔
عدالت کے ججوں کو بھیجے گئے خط میں پاکستانی نژاد کریم خان نے واضح کیا کہ اس اقدام میں بلا جواز تاخیر فلسطینی اراضی میں متاثرین کے حقوق پر اثر انداز ہو گی۔ خان نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ گرفتاری کے وارنٹوں کے حوالے سے دائر کی گئی قانونی پٹیشنوں کو مسترد کر دیا جائے۔
پراسیکیوٹر کے مطابق عالمی فوجداری عدالت اسرائیلیوں کے ساتھ تحقیق کا اختیار ہے۔ انھوں نے اوسلو معاہدے کی بنیاد پر قانونی حجتوں اور اسرائیل کی ان یقین دہانیوں کو مسترد کر دیا کہ تل ابیب حکومت اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگی جرائم کے ممکنہ ارتکاب کی تحقیقات کر رہی ہے۔
عالمی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹروں کا کہنا ہے کہ ایسی معقول وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ نیتن یاہو اور گیلنٹ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے ذمے دار ہیں۔
کریم خان نے رواں سال مئی میں اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے احکامات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ نسل کشی کے مماثل جرائم کا ارتکاب، انسانی امداد سے محروم کرنا اور لڑائی میں شہریوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانا ہے۔
کریم خان نے مزید بتایا کہ وہ یحیی السنوار سمیت حماس تنظیم کی قیادت کے خلاف بھی گرفتاری کے وارنٹوں کے اجرا کے لیے کوشاں ہیں۔
اسرائیلی اور فلسطینی رہنماؤں نے جنگی جرائم کے ارتکاب سے متعلق الزامات کی تردید کی ہے۔ دونوں جانب کے نمائندوں نے کریم خان کے اس فیصلے پر تنقید کی ہے جس کا مقصد وارنٹ گرفتاری حاصل کرنا ہے۔
فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم کے ارتکاب کے الزام میں اسرائیلی ذمے داران کے خلاف وارنٹ گرفتاری کے اجرا کے سلسلے میں کئی ممالک نے کریم خان کی حمایت کی ہے۔ ان میں سرفہرست جنوبی افریقا، برازیل، اسپین اور آئرلینڈ ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل کو امریکا، جرمنی اور ہنگری کی سپورٹ حاصل ہے۔