حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کل اتوار کو لبنان-اسرائیل کی سرحد پر ہونے والی فوجی کشیدگی کے بعد کچھ گھنٹے خاموشی سے اور پرسکون گذرے۔ اس سے اندازہ ہوا کہ دونوں فریق تصادم اور جنگ کا دائرہ بڑھانے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ امریکی حکام نے تصدیق کی کہ پینٹاگان کا خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں ہے۔
امریکی محکمہ دفاع نے کہا کہ اسرائیل اور حزب اللہ جنگ کومزید وسعت نہیں دیں گے۔
تاہم انہوں نے زور دیا کہ طیارہ بردار بحری جہاز مشرق وسطیٰ میں موجود رہیں گے۔
ڈیٹرنس پیغام
کچھ مبصرین کا خیال ہےکہ اس خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافے نے حزب اللہ کو پچھلے مہینے اسرائیل کی جانب سے اپنے سرکردہ رہنما فواد شکر کے قتل پر اپنے "جوابی ردعمل" کوموخر کرنے پر مجبور کیا۔
انہوں نےکہا کہ امریکی فوج کی موجودگی ایران کے لیے ڈیٹرنس کا پیغام بھی ہے جو اسرائیل کے لیے اپنے ردعمل پر غور کر رہا ہے۔ ایران نےحماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو گذشتہ جولائی کے آخر میں تہران میں قتل کرنے کا الزام لگایا ہے۔
یہ امریکی طاقت کا مظاہرہ حزب اللہ اور تہران کے فرار کا ایک امتحان بھی ہوسکتا ہے۔
خطے میں امریکی اثاثے کیا ہیں اور وہ کہاں واقع ہیں؟
گذشتہ ہفتے کے آخرمیں طیارہ بردار بحری جہاز USS ابراہم لنکن اپنے محافظ جہازوں کے ساتھ روانہ ہوا اور یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ میں شامل ہو گیا، جو مشرق وسطیٰ میں پہلے سے کام کر رہا ہے۔
امریکہ نے حال ہی میں ’یو ایس ایس‘ جارجیا کے قریب F-22 ریپٹر طیاروں کا ایک سکواڈرن بھی تعینات کیا ہے۔ اس میں ایک آبدوز ہے جو کروز میزائل لے جاسکتی ہے۔
مجموعی طور پر امریکہ کے پاس مشرق وسطیٰ میں کم از کم انیس مقامات پر فوجی تنصیبات ہیں- جن میں سے آٹھ مستقل اڈےسمجھے جاتے ہیں- ان میں بحرین، مصر، عراق، اسرائیل، اردن، کویت، قطر، سعودی عرب، شام اور متحدہ عرب امارات ہیں۔
امریکی فوج جیبوتی اور ترکیہ میں بڑے اڈے بھی استعمال کرتی ہے، جو علاقائی کمان کا حصہ ہیں اور اکثر مشرق وسطیٰ میں امریکی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
جب کہ یہ تمام میزبان ممالک اپنے اڈوں کے ارد گرد امریکہ کے ساتھ معاہدوں کے پابند ہیں۔ البتہ شام کی حکومت اپنی سرزمین پرامریکی افواج کی موجودگی کی مخالفت کرتی ہے اور اسے غیر قانونی سمجھتی ہے۔
قطر امریکی سینٹرل کمانڈ کے علاقائی ہیڈکوارٹر کی میزبانی کرتا ہے، جبکہ بحرین جو کہ مستقل طور پر تعینات امریکی اہلکاروں کی میزبانی کرتا ہے امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا مسکن ہے۔
قابل ذکر ہے کہ گذشتہ اکتوبر سے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ چھڑ جانے کے بعد واشنگٹن نے غزہ کی پٹی میں فوجی اڈوں اور بستیوں پر اس وقت حماس کی جانب سے شروع کیے گئے حملے کے بعد خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا ہے۔
لیکن اسرائیل کی طرف سے گذشتہ 30 جولائی کو بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں حزب اللہ کے ایک سینیر رہ نما فواد شکر کے قتل اور پھر چند گھنٹوں بعد تہران میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے قتل نے کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔
-
تصاویر سے واضح، اسرائیل نٹساریم کوریڈور کو توسیع دے رہا ہے
اگرچہ غزہ کی پٹی کو جنوبی اور شمالی حصوں میں تقسیم کرنے والی نٹساریم کوریڈور کی ...
مشرق وسطی -
ٹرمپ کی ایک ویڈیو نے تنازع کھڑا کر دیا، اسرائیل میں ناراضی اور سوالات
ایسا لگتا ہے کہ امریکی صدارتی انتخابات کے لیے ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ ...
بين الاقوامى -
جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملے میں گاڑی نذرآتش
حزب اللہ کی طرف سے اسرائیل پر بڑے حملے کے بعد اسرائیل کی جانب سے لبنان کے اندر ...
مشرق وسطی