آسٹریلیا: سینکڑوں بچوں کو جنسی بلیک میل کرنے کے جرم میں پاکستانی نژاد کو 17 سال قید
یہ آسٹریلیا میں بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کا ایک بدترین مقدمہ ہے، سینکڑوں افراد متأثر ہوئے
ایک پاکستانی نژاد آسٹریلوی شخص جس نے خود کو ایک نوجوان یوٹیوب سٹار ظاہر کرکے سینکڑوں بچوں کو بلیک میل کرتے ہوئے جنسی حرکات کرنے پر مجبور کیا، کو آسٹریلیا میں 17 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
29 سالہ محمد زین العابدین رشید نے سوشل میڈیا کے 15 سالہ سٹار ہونے کا جھوٹ بولا اور اپنے فالوورز کی ایک بڑی تعداد بتائی۔ یوں اس نے آسٹریلیا میں اور بیرونِ ملک بچوں کو نشانہ بنایا۔
وہ اس آڑ میں بچوں سے آن لائن رابطہ کرتا، انہیں آن لائن سٹار کی تصاویر بھیجتا اور ابتدا میں ان کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے معصوم سوالات پوچھتا تھا۔ عدالت نے سنا کہ پھر جنسی طور پر واضح "تخیلات" کی طرف بتدریج بڑھتے ہوئے وہ ان سے منظوری دینے کو کہتا جبکہ "درجہ بندی" کرنے کے لیے ان سے ان کی تصاویر بھی مانگتا تھا۔
اے بی سی نے رپورٹ کیا، منگل کو مغربی آسٹریلیا کی ضلعی عدالت میں سزا سناتے ہوئے جج امانڈا برؐوز نے کہا کہ جرائم کا حجم اتنا بڑا تھا کہ "مجھےآسٹریلیا میں اس کے مقابلے کا کوئی کیس مل ہی نہیں سکا۔"
رشید نے بچوں کو دھمکی دی کہ جب تک وہ انتہائی شدید جنسی حرکات نہ کریں، وہ ان کے جوابات کے سکرین شاٹس دوستوں اور اہلِ خانہ کو بھیج دے گا۔
سزا سناتے ہوئے جج برؐوز نے کہا کہ یہ جرائم "توہیں آمیز، ذلت آمیز نوعیت کے۔۔ خاص طور پر قابلِ کراہت" تھے۔
عدالت کو پتا چلا کہ رشید ایک "الٹی گنتی" کا ٹائمر سیٹ کر کے دھمکی دیتا تھا کہ اگر بچے اس کے مطالبات پورے نہ کریں تو وہ ان کے جوابات اور ان کی بنی ہوئی مزید تصاویر تقسیم کر دے گا۔
جج برؐوز نے کہا کہ رشید کا جرم اس حقیقت کی بنا پر زیادہ شدت اختیار کر گیا کہ اس نے دوسرے بالغ افراد کے گروپوں کے ساتھ متعدد متأثرین سے بدسلوکی کی۔ وہ بچوں سے زیادتی کرنے والے دیگر افراد کو لائیو سٹریم دیکھنے کی دعوت دیتا جبکہ وہ بچوں کو تکلیف دہ حرکات کرنے کو کہتا تھا۔
دیگر معاملات میں بچوں کی "واضح پریشانی" اور "انتہائی خوف" کے باوجود وہ ان پر دھونس جماتا اور مجبور کرتا رہا جن میں سے بعض نے اسے بتایا کہ وہ خودکشی کا سوچنے لگے تھے۔
ایک ماہرِ نفسیات کی عدالت کے لیے تیار کردہ رپورٹ میں تفصیلاً بتایا گیا کہ کس طرح رشید کم عمری میں پاکستان سے آسٹریلیا چلا گیا اور اس کے والدین "روایتی، قدامت پسند اور سخت" تھے۔ اسے صرف لڑکوں والے ایک پرائیویٹ سکول میں داخل کروا دیا گیا جہاں وہ اور اس کے بھائی واحد مسلم طلبہ تھے جس کی وجہ سے وہ سماجی طور پر خود کو تنہا محسوس کرنے لگے۔
اس نے 2018 میں بچوں کے استحصال کے مواد تک رسائی حاصل کرنا شروع کر دی جو 2019 میں بچوں کے ساتھ براہِ راست جرم تک جا پہنچی جب اس مواد کا "اثر ختم ہو گیا"۔
اسے 665 جرائم پر سزا سنائی گئی جو 11 ماہ کی مدت میں واقع ہوئے اور ان سے 286 بچے متأثر ہوئے۔
رشید پر سب سے پہلے 2021 میں آسٹریلوی وفاقی پولیس نے الزام عائد کیا تھا جب ان سے انٹرپول اور ریاست ہائے متحدہ کی پولیس نے ایک ایسے شخص کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جو سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوان لڑکیوں کو نشانہ بنا رہا تھا اور اس کے بارے میں خیال تھا کہ وہ آسٹریلیا میں تھا۔
وہ پہلے ہی ایک الگ جرم کے لیے پانچ سال قید کی سزا کاٹ رہا ہے جس میں اس نے پرتھ کے ایک پارک میں دو الگ الگ مواقع پر اپنی گاڑی میں ایک 14 سالہ بچے کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جس کے بارے میں جج نے نوٹ کیا کہ اسی عرصے کے دوران وہ آن لائن جرائم کر رہا تھا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ رشید نے جیل میں جنسی مجرمان کے علاج کے پروگرام میں سینکڑوں گھنٹے گذارے لیکن ایک ماہرِ نفسیات کو پتا چلا کہ اس کے بدستور دوبارہ جرم کرنے کا "اوسط سے زیادہ خطرہ" موجود تھا۔
یہ ابتدائی جوانی میں سنِ بلوغت سے گذرنے والے بچوں میں مسلسل جنسی دلچسپی کی وجہ سے تھا جسے "ہیبیفیلیا" اور "زبردستی جنسی عمل کے دوران ایذا رسانی کا عارضہ" کہا جاتا ہے۔
جج برؐوز نے سزا سنانے، جیل میں جنسی علاج کے پروگرام میں مصروفیت اور سزا سنانے کی ابتدائی درخواست کے دوران رشید کی نوجوانی کو مدِنظر رکھا لیکن کہا کہ یہ انسداد کا واضح پیغام بھیجنے کی ضرورت اور متأثرین کے عدم تحفظ کے مطابق متوازن ہونا چاہیے۔
جج بروز نے کہا، "متأثرین ہمیشہ اس خوف کے ساتھ زندہ رہیں گے کہ آپ نے ان کی جو ریکارڈنگز کی ہیں وہ [مزید لوگوں تک] پھیل جائیں گی۔"
رشید اگست 2033 میں وعدے یا ضمانت کے لیے درخواست دینے کا اہل ہو گا جب اس کی عمر 38 سال ہو گی۔