پولیس نے بتایا کہ ہفتے کے روز ڈنمارک کی ایک مقامی لائبریری میں کیمسٹری شو کے دوران دھماکہ ہو گیا جس میں تین بچے اور ایک بالغ زخمی ہو گئے۔
پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ یونیورسٹی کا ایک 22 سالہ طالبِ علم شدید زخمی ہو گیا جو تجربہ کر رہا تھا اور اسے ہسپتال لے جایا گیا حالانکہ اس کی جان کو خطرہ نہیں تھا۔
پولیس نے مزید کہا کہ تین میں سے دو بچوں کو "معمولی چوٹیں" آئیں جنہیں ہسپتال لے جانا ضروری تھا جبکہ تیسرے کو ہسپتال جانے کی ضرورت نہیں تھی۔
فوری طور پر دھماکے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی اور پولیس نے کہا کہ اس کے ماہرین نے اس بات کا تعین کیا کہ "جائے وقوعہ پر کوئی خطرناک کیمیکل موجود نہیں تھا۔"
شو کی منتظم آلبرگ یونیورسٹی کے مطابق نمائش کا مقصد "دھماکے کرنے کے مختلف طریقے دکھانا تھا۔"
پولیس نے بتایا کہ جنوبی ڈنمارک کی ٹونڈر لائبریری میں تقریباً 40 تماشائی شو دیکھنے کے لیے جمع تھے۔
اس دوران ٹونڈر سٹی کی ویب سائٹ پر شو کے لیے ایک اشتہار میں کہا گیا کہ یہ مظاہرہ یونیورسٹی کے کیمسٹری کے طلباء کریں گے جس میں دکھایا جائے گا کہ "کیمسٹری ہماری روزمرہ کی زندگی میں کس طرح ایک کردار ادا کرتی ہے۔"
یونیورسٹی نے "دلچسپ تجربات۔۔ آگ، زوردار دھماکوں، شاندار رنگوں، کیمیائی ردِ عمل اور نوجوان اور بزرگ دونوں کے لیے تعلیمی علم سے بھرپور" ایک شو کا وعدہ کیا تھا۔