تیونس: صدر پر تنقید کرنے والے کو آٹھ ماہ کے لیے جیل بھیج دیا گیا

56 سالہ سونیا دہمانی کو 11 مئی کو تیونس کی بار ایسوسی ایشن سے گرفتار کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

تیونس کی ایک اپیل کی عدالت نے ایک وکیل اور میڈیا کی شخصیت کو ملک کے صدر قیس سعید کے خلاف تنقیدی تبصروں پر آٹھ ماہ قید کی سزا سنائی، یہ بات ان کے وکیل نے بدھ کو بتائی۔

56 سالہ سونیا دہمانی کو 11 مئی کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب نقاب پوش پولیس نے تیونس کی بار ایسوسی ایشن پر چھاپہ مارا تھا۔ وہاں انہوں نے ٹیلی ویژن پر کیے گئے تبصروں کے بعد پناہ لے رکھی تھی۔

ابتدائی طور پر چھے جولائی کو ایک سال قید کی سزا کے خلاف انہوں نے اپیل کی تھی۔

ان کے وکیل پیری-فرانکوئس فیلٹیسی نے کہا کہ آٹھ ماہ کی سزا منگل کے آخر میں سنائی گئی تھی اور سماعت معطل ہونے کے بعد ان کے قانونی نمائندے درخواست داخل کرنے کے قابل نہیں تھے۔

دفاعی ٹیم نے اے ایف پی کو ایک بیان میں کہا کہ دہمانی کو حراست میں "ذلت آمیز جامہ تلاشی" کا نشانہ بنایا گیا اور "لمبا سفید نقاب" پہننے پر مجبور کیا گیا جو عموماً ان خواتین کے لیے مخصوص ہوتا ہے جن پر جنسی جرائم کا مقدمہ چلایا جاتا ہے حالانکہ دہمانی کے خلاف اس کی کوئی قانونی بنیاد نہیں تھی۔

فیلٹیسی نے کہا کہ ان کا مقدمہ صوابدیدی حراست سے متعلق اقوامِ متحدہ کے ورکنگ گروپ کو بھیجا جائے گا۔

یہ الزامات دہمانی کے ٹی وی پر کیے گئے تبصروں سے شروع ہوئے۔ اس دعوے کے جواب میں کہ ذیلی صحارا کے تارکینِ وطن ملک میں آباد ہو رہے تھے، انہوں نے تیونس کی صورتِ حال پر طنزیہ انداز میں سوال اٹھایا تھا۔

انہوں نے اس وقت کہا تھا، "ہم کس غیر معمولی ملک کی بات کر رہے ہیں؟"

ایک عدالتی رپورٹ میں کہا گیا کہ ان کے تبصروں میں سعید کی تقریر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تیونس ان تارکینِ وطن کے لیے دوبارہ آباد کاری کا علاقہ نہیں بنے گا جنہیں یورپ جانے سے روک دیا گیا تھا۔

2019 میں جمہوری طور پر منتخب ہونے والے سعید نے 2021 میں طاقت کے ذریعے اقتدار پر قبضے کے بعد سے حکم نامے کے ذریعے تیونس پر حکومت کی ہے۔

کئی امیدواروں کو روک دینے کے بعد وہ چھے اکتوبر کے صدارتی انتخابات کی دوڑ میں سب سے آگے ہیں۔ انہیں چیلنج کرنے والے دو امیدواروں میں سے ایک العیاشی زمال جیل میں ہیں۔

2022 میں سعید کا نافذ کردہ حکم نامہ 54 "جھوٹی خبریں پھیلانے" کو جرم قرار دیتا ہے۔

نیشنل یونین آف تیونس جرنلسٹس نے کہا ہے کہ اس حکم نامے کو 60 سے زائد صحافیوں، وکلاء اور حزبِ اختلاف کی شخصیات کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ انتخابات کی دوڑ میں شامل کم از کم آٹھ ممکنہ امیدواروں کے خلاف مقدمہ چلایا، مجرم قرار دیا یا قید کیا گیا۔

نیویارک میں قائم ایڈوکیسی گروپ نے کہا، "ایسے جبر کے درمیان انتخابات کا انعقاد تیونس کے لوگوں کے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات میں حصہ لینے کے حق کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں