دنیا ایک 'انتہائی خطرناک موڑ' پر ہے: ٹرمپ کے سابق معاون برائے قومی سلامتی

مناظرے میں امریکہ کو درپیش چیلنجز پر زیادہ بات نہیں ہوئی: جان بولٹن کا جی این ٹی کو انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ڈونلڈ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے سابق مشیر نے جمعہ کو کہا، دنیا ایک "انتہائی خطرناک جگہ" پر ہے۔

جان بولٹن نے العربیہ کے جی این ٹی کو ایک انٹرویو میں بتایا، "بین الاقوامی طور پر دنیا ایک بہت خطرناک جگہ پر ہے۔ اور منگل کو (ٹرمپ اور کملا ہیرس) کے درمیان مناظرے سے ظاہر ہوا کہ امریکہ کو شرقِ اوسط اور یوکرین کے تنازعات اور مشرقی ایشیاء میں چین کے ساتھ جو چیلنجز درپیش ہیں، ان کے بارے میں زیادہ بحث نہیں ہوئی۔"

بولٹن جو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اختلاف رکھتے ہیں، منگل کی رات ٹرمپ اور ڈیموکریٹک نامزد نائب صدر کملا ہیرس کے درمیان ہونے والے مناظرے کا ذکر کر رہے تھے۔

انہوں نے مزید کہا، "اور میرے خیال میں ان انتہائی اہم انتخابات میں اب تک ہمیں امیدواروں سے کافی کچھ سننے کو نہیں ملا ہے کہ (جس کی بنیاد پر) عوام واقعی معلومات کی بنا پر درست فیصلہ کریں۔"

90 منٹ کی بحث کے دوران دونوں امیدواروں نے غزہ جنگ کے بارے میں مختصراً بات کی۔ دونوں نے چین سے متعلق امریکی پالیسی اور روس-یوکرین جنگ کے بارے میں بات کی۔ لیکن کسی بھی فریق سے منتخب ہونے کی صورت میں پالیسیوں کی تفصیلات بتانے کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔

ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا وہ یوکرین کے جنگ جیتنے کے حق میں ہیں لیکن انہوں نے یہ کہہ کر کہ وہ جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں، مبہم جواب دیا۔ بولٹن نے کہا، "اور وہ یہ نہیں کہیں گے۔ اور میرے خیال میں اس سے آپ کو سب پتا چل جاتا ہے کہ ان کا جھکاؤ کس طرف ہو گا۔"

بولٹن نے کہا کہ پوتن ٹرمپ کو دوبارہ منتخب ہوتے ہوئے "دیکھنا پسند کریں گے" کیونکہ "وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک آسان نشان ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ (پوتن) ٹرمپ سے جو چاہیں، حاصل کر سکتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size