لبنان میں سرکاری میڈیا نے بدھ کی صبح بتایا ہے کہ اسرائیل نے جنوبی علاقوں پر نئے فضائی حملے کیے ہیں۔ ادھر تل ابیب اور اسرائیل کے وسطی علاقوں میں خطرے کے سائرن بجائے گئے۔ العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے نمائندے کے مطابق حزب اللہ نے پہلی مرتبہ تل ابیب کی سمت بیلسٹک میزائل داغا ہے۔ ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بدھ کے روز نیویارک کے لیے اپنا سفر ملتوی کر دیا۔ اب وہ جمعرات کے روز روانہ ہوں گے۔
الجيش الإسرائيلي ينشر صورا لاستهداف منصة الصاروخ الذي أطلق باتجاه تل أبيب#قناة_العربية #لبنان pic.twitter.com/FEx17Xw5pv
— العربية (@AlArabiya) September 25, 2024
حزب اللہ نے تل ابیب پر بیلسٹک میزائل داغنے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔ تنظیم نے ایک بیان میں بتایا کہ داغا جانے والا میزائل "قادر 1" ہے جس کا ہدف موساد (اسرائیل کی خفیہ ایجنسی) کا صدر دفتر تھا۔ موساد لبنان میں حزب اللہ کی قیادت کی ہلاکت اور پیجر اور وائر لیس آلات کے دھماکوں کی ذمے دار ہے۔
صور لاعتراض صاروخ أطلقه حزب الله فوق تل أبيب#قناة_العربية #لبنان pic.twitter.com/DyWSZc8UUw
— العربية (@AlArabiya) September 25, 2024
اسرائیلی فوج کے مطابق تل ابیب اور اسرائیل کے وسطی علاقوں میں خطرے کے سائرن بجائے گئے۔ اس کے بعد لبنان کی جانب سے وسطی اسرائیل کی سمت زمین سے زمین مار کرنے والا ایک میزائل داغا گیا جس کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔
صافرات الإنذار تدوي في #تل_أبيب ووسط إسرائيل مع اعتراض عدد من الصواريخ#العربية pic.twitter.com/mAc7kE70sl
— العربية (@AlArabiya) September 25, 2024
اس سے قبل اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے تل ابیب کی فضا میں میزائلوں کو روک دیا۔
مراسلة العربية: سلسلة غارات صباحية على 14 قرية على الأقل في جنوب لبنان#قناة_العربية #لبنان pic.twitter.com/gneVXGnAAs
— العربية (@AlArabiya) September 25, 2024
اسرائیل نے آج بدھ کو مسلسل تیسرے روز بھی لبنان کے جنوبی علاقوں پر فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کی نمائندہ کے مطابق صبح کے حملوں میں کم از کم 14 دیہات کو نشانہ بنایا گیا۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی جنگی طیارے بدھ کی صبح پانچ بجے سے فضائی حملے کر رہے ہیں۔ حملوں کا سلسلہ رات بھر چلتا رہا اور ان کے نتیجے میں جانی نقصان بھی ہوا ہے۔
اسرائیلی فوج نے رواں ہفتے اب تک کے شدید ترین فضائی حملے کیے جن میں لبنان کے اندر سیکڑوں اہداف اور حزب اللہ کی قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے نتیجے میں 570 افراد ہلاک اور 1800 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔ یہ 1975 سے 1990 تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے بعد سے لبنان میں ایک دن میں ہونے والی ہلاکتوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
ادھر مشرق وسطیٰ میں بڑی جارحیت کے بیچ عالمی سلامتی کونسل آج بدھ کے روز لبنان کے حوالے سے ایک ہنگامی اجلاس منعقد کر رہی ہے۔ یہ اجلاس فرانس نے طلب کیا تھا۔ اجلاس میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس بھی شریک ہوں گے۔
اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے اعلان کیا ہے کہ لبنان کے تمام علاقوں میں حزب اللہ کے عسکری ٹھکانوں، میزائلوں کے گوداموں اور رہنماؤں پر حملوں کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔