ہالی ووڈ کی فنڈ ریزنگ ہیرس کے لیے ٹیلر سوئفٹ کی حمایت سے زیادہ فائدہ مند ہوسکتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ٹیلر سوئفٹ سے لے کر جارج کلونی تک سٹارز نے 5 نومبر کو ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدوار کملا ہیرس کو اپنی حمایت کی پیشکش کی ہے لیکن ماہرین کے مطابق ووٹرز کے ووٹوں پر اثر انداز ہونے کی ان کی صلاحیت ان کی پیسے جمع کرنے کی صلاحیت کے مقابلے میں معمولی ہے کیونکہ یہ کوئی راز نہیں ہے کہ کملا ہیرس امریکہ کے تفریحی دارالحکومت لاس اینجلس میں محبوب ہیں۔

امریکی صدر بائیڈن کے جولائی کے آخر میں صدارتی الیکشن کی دوڑ سے باہر ہونے کے بعد سے "کملا جنون" تیزی سے بڑھ گیا ہے۔ تجزیہ کار ایلین گولڈسمتھ فائن نے کہا ہے کہ ایک ہالی ووڈ پروڈیوسر نے ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے رقم اکٹھی کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت کا جوش و خروش کی سطح سابق صدر اوباما کی پہلی مہم کے مقابلے کا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں یہ نہیں کہنا چاہتی کہ دیگر صدارتی مہمات، خاص طور پر ہلیری کلنٹن کی مہم، میں حقیقی جوش و خروش نہیں پیدا ہوا تھا لیکن اس مرتبہ کی مہم سے ہم بنیادی تبدیلی لانے کی صلاحیت کو محسوس کر رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم ہالی ووڈ کے سٹارز کی حمایت کی اس رفتار سے کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟

سینٹ میری یونیورسٹی کے پروفیسر اور اس موضوع پر ایک کتاب کے مصنف مارک ہاروے نے کہا کہ یہ ظاہر کرنے کے لیے بہت زیادہ ثبوت نہیں ہیں کہ امیدوار کی حمایت کرنے سے فرق پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا بائیں بازو کی مشہور شخصیات کے کچھ نامناسب پیغامات شائقین کے ووٹ دینے کی حوصلہ شکنی کر سکتے ہیں۔

ہاروے نے وضاحت کی ہے کہ، جلد ہی شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ کی طرف سے ڈیموکریٹک پارٹی کو ووٹ دینے کی فرضی کال غیر جانبدارانہ پیغام کے مقابلے میں ووٹرز کو انتخابات میں جانے کا امکان کم کر دے گی۔ 34 سالہ گلوکارہ نے حال ہی میں انسٹاگرام پر ایک پیغام دیا جس میں کہا گیا کہ وہ ذاتی طور پر کملا ہیرس کو ووٹ دیں گی اور ساتھ ہی ساتھ اپنے مداحوں کو اپنے نتائج اخذ کرنے کی دعوت بھی دیں گی۔

ایلین گولڈسمتھ فائن نے کہا کہ مشہور شخصیات کا عام طور پر لوگوں کے ووٹنگ پر زیادہ اثر نہیں ہوتا ہے لیکن وہ پیسہ اکٹھا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان لوگوں کو انتخابی فہرستوں میں ووٹ ڈالنے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کے لیے بھی زیادہ استعمال کیا جانا چاہیے۔

ہیرس کی ہالی ووڈ میں گہری جڑیں

کملا ہیرس کی اتوار کو لاس اینجلس پہنچنے کی توقع ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس کے لیے ڈیموکریٹک امیدوار بننے کے بعد سے اس شہر میں اپنے پہلے بڑے فنڈ ریزر میں شرکت کریں گی۔ اگر وہ جیت جاتی ہیں تو ٹم والز نائب صدر کے لیے انتخاب لڑے رہے ہیں۔ کیلیفورنیا ڈیموکریٹس کے لیے فنڈنگ کا ایک ذریعہ ہے اور کملا ہیرس کی جڑیں ہالی ووڈ میں گہری ہیں۔ خاص طور پر چونکہ وہ برنٹ ووڈ کے پڑوس میں ایک گھر کی مالک بھی ہیں۔

نائب صدر نے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر ریگی ہڈلن اور ان کی اہلیہ کے توسط سے اپنے شوہر ڈوگ ایمہوف سے ملاقات کی۔ ڈیموکریٹک امیدوار ڈزنی ٹیلی ویژن برانچ کے سربراہ اور اس گروپ کی ممکنہ اگلی جنرل منیجر ڈانا ویلڈن کے بھی بہت قریب ہیں۔ کیلیفورنیا کے سابق اٹارنی اور سینیٹر ہیرس نے اپنی پچھلی مہموں کے دوران ہالی ووڈ کے فراخدلانہ عطیات سے فائدہ اٹھایا ہے۔

جون میں جو بائیڈن کے لیے منعقد ایک تقریب کے دوران جو ابھی تک امیدوار تھے کے لیے جارج کلونی، جولیا رابرٹس اور جمی کامل کی موجودگی میں 30 ملین ڈالر اکٹھے کیے گئے تھے۔ ایلین گولڈ سمتھ فائن نے کہا تاریخی طور پر ہالی ووڈ ڈیموکریٹک پارٹی کا زیادہ حامی رہا ہے اور یہ اس الیکشن کے دوران مختلف نہیں ہے۔

مضبوط دلائل

اس وققت شائقین کو ووٹ دینے کا طریقہ بتانے کی بات آتی ہے تو مشہور شخصیات کے لیے چیزیں زیادہ پیچیدہ ہوجاتی ہیں۔ ماہر مارک ہاروے کا کہنا ہے کہ آپ لوگوں کو بندوقیں چھوڑنے یا اسقاط حمل کے بارے میں اپنا ذہن تبدیل کرنے پر قائل نہیں کر سکیں گے جب تک کہ ان مشہور شخصیات کو ماہرین کے طور پر نہیں دیکھا جائے گا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اگر ہم دیکھیں تو مثال کے طور پر U2 بینڈ سے تعلق رکھنے والے بونو ایڈز پر تحقیق اور ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے کا ایک مضبوط وکیل ہے، وہ بہت مضبوط علمی اور معاشی دلائل پیش کرنے کے قابل ہے ۔ لیکن وہ ایک ہی وقت میں لوگوں کو قائل کرنے کے لیے موسیقی اور جذبات کو ابھارنے کی اپنی صلاحیت کا استعمال کرتا ہے۔

مارک ہاروے نے کہا ٹیلر سوئفٹ کا اثر بہت زیادہ ہوگا اگر وہ فنڈ ریزنگ مہم یا انتخابی مہم میں پرفارم کرتی ہیں کیونکہ لوگ اپنے پیارے اسٹار کو وہ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں جو وہ کرنا چاہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں