امریکی الیکشن

کیا ملانیا کی ’یاداشتیں‘ان کے شوہرٹرمپ کی صدارتی مہم کو "نقصان" پہنچا سکتی ہیں؟

’سابق خاتون اول میلانیا ٹرمپ کا کا ’استقاط حمل‘ سے متعلق موقف اپنے شوہر کے موقف سے متصادم ہے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

میلانیا ٹرمپ نے اپنی یادداشتوں پر مشتمل آنے والی کتاب میں اسقاط حمل کے حقوق کے لیے اپنی بھرپور حمایت کا اظہار کیا ہے۔ بدھ کو دی گارڈین اخبار نے رپورٹ کیا کہ ان یاداشتوں میں میلانیا کا موقف اس معاملے پر ان کے شوہر ڈونلڈ ٹرمپ کے موقف سے متصادم ہے اور وہ اپنی صدارتی الیکشن کی مہم کے دوران اسقاط حمل کی مخالفت کو کلیدی موقف سمجھتےہیں۔

سابق امریکی صدر اور نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی اہلیہ نے لکھا کہ "حکومت کی طرف سے کسی مداخلت یا دباؤ کے بغیر ان کے اپنے خیالات بچے پیدا کرنے کے فیصلے کے حوالے سے خواتین کی آزادی کی ضمانت کی حمایت کرتے ہیں‘‘۔

میلانیا کے بیان کردہ خیالات ٹرمپ کے ان خیالات سے متصادم ہیں، جن کا ماننا ہے کہ ہر ریاست کو اسقاط حمل کے حوالے سے اپنی پابندیوں کا فیصلہ کرنے کے لیے آزاد ہونا چاہیے۔

پانچ نومبر کو ہونے والے انتخابات میں اسقاط حمل ایک بڑا مسئلہ ہے اور رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس معاملے پر ووٹروں میں ڈیموکریٹ کملا ہیرس ٹرمپ سے کافی آگے ہیں۔

میلانیا نے استفسار کیا کہ "کیا خود عورت کے علاوہ کسی کو یہ اختیار ہونا چاہیے کہ عورت کے جسم کے ساتھ کیا کرنا ہے؟۔ عورت کا انفرادی آزادی کا بنیادی حق، اس کی نجی زندگی میں اسے یہ اختیار دیتا ہے کہ اگر وہ چاہے تو اپنا حمل ختم کر سکتی ہے"۔

اس نے مزید لکھا کہ "کسی عورت کے ناپسندیدہ حمل کو ختم کرنے کا انتخاب کرنے کے حق کو محدود کرنا اسے اپنے جسم پر کنٹرول سے محروم کر رہا ہے"۔ اخبارکی رپورٹ کے مطابق اس نے اگلے منگل کوشائع ہونے والی کتاب کی ایک کاپی حاصل کی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران فخریہ بات کی تھی کہ ان کی مدت کے دوران سپریم کورٹ میں تین قدامت پسند ججوں کی تقرری نے 2022 میں اسقاط حمل کے وفاقی حق کو ختم کرنے کی راہ ہموار کی تھی۔

اس کے بعد سے کم از کم 20 ریاستوں نے اسقاط حمل پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے، جن میں جارجیا بھی شامل ہے، جس نے حمل کے چھٹے ہفتے کے بعد اسقاط حمل پر پابندی عائد کر دی تھی۔

منگل کو سابق امریکی نائب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر کملا ہیرس کے درمیان ہونے والی بحث کے دوران ٹرمپ نے "ٹروتھ سوشل" نیٹ ورک پر اعلان کیا کہ وہ ملک گیر اسقاط حمل کی پابندی کو ویٹو کر دیں گے۔ ان کے بہ قول یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر وہ کئی مہینوں سے خاموش ہیں۔

ہیریس مہم اکثر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ٹرمپ، سخت گیر قدامت پسندوں کی حمایت کے حصول قومی سطح پر اسقاط حمل پر پابندی چاہتے ہیں۔

ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل ویب سائٹ پر لکھا کہ "ہر کوئی جانتا ہے کہ میں کسی بھی حالت میں وفاقی اسقاط حمل کی پابندی کی حمایت نہیں کروں گی اور درحقیقت میں اسے ویٹو کر دوں گی"۔

ٹرمپ نے کہا کہ اسقاط حمل کے ضوابط کو ریاستوں پر چھوڑ دینا چاہیے۔ ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ اس سے قوانین کی ایک پیچیدگی پیدا ہوتی ہے جو کچھ ریاستوں میں خواتین کو ان کی صحت اور جسم پر دوسری ریاستوں کی خواتین کے مقابلے کہیں زیادہ حقوق دے سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں