مصر میں مقامی طور پر تیار کی گئی پہلی بکتر بند گاڑی "سیناء 200" نمائش کے لیے پیش کر دی گئی۔ اس فوجی گاڑی کو منگل کے روز منعقد ایک تقریب میں پیش کیا گیا۔ تقریب میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی بھی موجود تھے۔
یہ بکتر بند گاڑی مشقوں اور دھیمی رفتار کے حوالے سے اعلیٰ صلاحیت سے لیس ہے۔ اس کی رفتار 65 کلو میٹر فی گھںٹہ تک ہے اور آپریشنل رینج 550 کلو میٹر ہے۔
تفصیلات کے مطابق "سيناء 200" کا فور سلنڈر ڈیزل انجن ہے۔ اس کا وزن 14 ٹن ، لمبائی 6.1 میٹر اور چوڑائی 3.4 میٹر ہے۔ ہھتیار کے بغیر اس کی عام اونچائی 1.88 میٹر ہے۔ اس کا عملہ ڈرائیور اور قائد کے علاوہ 6 فوجیوں پر مشتمل ہے۔
عسکری اور تزویراتی امور کے مصری ماہر اور مسلح افواج میں جاسوسی کے شعبے کے سابق سربراہ میجر جنرل نصر سالم نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "سيناء 200" مصری افواج کے ہتھیاروں کی صفوں میں ایک قیمتی اضافہ ہے۔ یہ بکتربند گاڑی جامع عسکری صلاحیتوں کی حامل ہے۔
نصر سالم کے مطابق مصر اس وقت لڑائی کی استعداد اور تیاری کے حوالے سے اعلی درجے پر ہے۔ مقامی طور پر "سيناء 200" جیسی بکتر بند گاڑی کی تیاری نہایت اہم بات ہے۔ انھوں نے باور کرایا کہ مصر ڈرون طیارے اور بکتربند گاڑیاں تیار کر رہا ہے اور وہ اپنی فوج کو مسلح کرنے کے ذرائع متنوع بنانے کی سمت گامزن ہے۔